#internationalwomensday2021 مجهے خود پر اپنی ذات پر فخر کرنے کے لیے کسی دن گروہ اور مافیا کی ضرورت نہیں۔عزت میرا حق ہے بطور عورت اگر میں نے مسائل کا سامنا کیا تو ہو سکتا ہے کہ میں نے غلط لوگوں پر اعتبار کر لیا ہو ۔

مجهے خود پر اپنی ذات پر فخر کرنے کے لیے کسی دن گروہ اور مافیا کی ضرورت نہیں۔عزت میرا حق ہے بطور عورت اگر میں نے مسائل کا سامنا کیا تو ہو سکتا ہے کہ میں نے غلط لوگوں پر اعتبار کر لیا ہو ۔

اس لیے مجهے صرف یہ کہنا ہے کہ مجهے اپنے انسان ہونے اور خالق کائنات کے پسندیدہ ترین دین کا حصہ ہونے پر فخر ہے. میرا فخر ہے کہ مجهے مرد کا ہر رشتہ بہترین ملا۔۔۔ بہترین باپ ۔۔۔ بهائی۔۔ استاد۔۔ بہت سارے مرد کولیگ اور دوست ۔۔ اور ماشاءاللہ اب میرے بھتیجے۔

اور جن مردوں نے مجهے ذلیل کرنے۔۔۔ غلط سمجهنے۔۔۔۔ تنگ کرنے اور تحقیر کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔ تو ان سب نے مجهے وہی دیا جو ان کی تربیت اور خون میں شامل تها
۔۔ مجهے کسی برے سے اچهے کی توقع نہیں۔۔۔ کسی اچهے کو تعریف کی ضرورت نہیں۔
#internationalwomensday2021

سیکولرازم کی ابتداء اس وقت ہوئی جب پوپ نے رب العالمین کی جگہ لی اور خود رب بن گیا اور اور حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیمات کو اس بری طرح مسخ کر دیا کہ دین عیسوی ہدایت اور رحمت کے بجائے گمراہی اور زحمت بن گیا اور امور تکوینی میں ترقی کے اس طرح مخالفت کرنے لگے کہ گویا دین ہی مٹ گیا ۔۔۔۔ آگے بڑھ کر دیکھیں

اللہ تعالیٰ کے مخلوق کو اپنے غلام تصور کر نے لگے نتیجے میں ایک جمود طاری ہوئی اور لوگ سمجھنے لگے کہ سارا قصور دین کی ہے اور اس کے خلاف1555 میں یورپ میں عموماً اور اٹلی میں خصوصاً دین اور ریاست کو الگ کرنے کی تحریک برپا ہوا
اور 1851 میں اس عمل کو باقاعدہ سیکولرازم کے اصطلاح کا نام دیا گیا

عارف بِاللہ،حکیم الاسلام حضرتِ اقدس مولانا قاری محمد طیّب صاحب قاسمی نوّراللہ مرقدہ،سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند کا تاریخی پس منظر ۔۔



از : محمد طاھر قاسمی ابن حضرت مولانا قاری دین محمد صاحب قاسمی میواتی ثم الدھلوی رحمۃ اللہ علیہ ، سابق خطیب و امام جامع مسجد حوض رانی نئی دھلی انڈیا

آپ ہندوستان کے مشھور و معروف عالمِ ربّانی ، حکیم الاسلام ، عارف بِاللہ ، شیخُ العرب والعجم ، بے مثل عظیم خطیب ، اکابرِ دیوبند کے علوم ؛ خصوصاً علومِ قاسمی ، علومِ شیخ الھند ، علومِ تھانوی اور علومِ عثمانی کے عظیم شارح ، حُجّۃ الاسلام حضرت مولانا مُحمّد قاسم صاحب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے ، حضرت مولانا حافظ مُحمّد احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ مہتمم خامِس دارالعلوم دیوبند کے صاحبزادے ، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر ، حکیمُ الامّت مجدّد المِلّت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ممتاز خلیفہ اور دارالعلوم دیوبند کے مایۂ ناز مہتمم تھے ۔

ولادت :
آپ کی ولادت باسعادت مُحرّم الحرام ۱۳۱۵ھ مطابق جون؍ ۱۸۹۷ء بروز اتوار دیوبند میں ہوئی ۔
آپ کا نامِ نامی مُحمّد طیّب تجویز کیا گیا اور تاریخی نام مُظفرالدین رکھا گیا ۔ اوّل نام سے آپ نے شھرت پائی ۔
حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری مُحمّد طیّب قاسمی صاحبؒ فرماتے تھے کہ میری پیدائش کے ساتھ ایک بزرگ کی کرامت وابستہ ہے ، فرماتے تھے کہ حضرت حافظ مُحمّد احمد صاحبؒ کے پہلے تین اولادیں ہوئیں ، اور ان تینوں کا بچپن میں انتقال ہوگیا ، اس کے بعد ایک مدت تک حضرت حافظ صاحبؒ کے یہاں کوئی اولاد نہ ہوئی ، حضرت شیخ الہندؒ کو اس کی زیادہ فکر تھی ، ان کی خواھش تھی کہ خاندان قاسمی کا سلسلہ آگے بڑھے ، حضرت شیخ الہندؒ نے مولانا عبد الاحد صاحبؒ کے والد مولانا عبد السّمیع صاحبؒ کو فتحپور کے ایک صاحب کرامت بزرگ کی خدمت میں بھیجا جو اولاد کے سلسلہ میں مستجاب الدّعوات تھے کہ ان سے حضرت حافظ صاحبؒ کی اولاد کے لئے دعاء کروائیں ، ان بزرگ نے حضرت شیخ الہندؒ کا پیغام سن کر تھوڑی دیر مراقبہ کیا ، اور پھر سر اٹھاکر ان الفاظ میں بچّہ پیدا ہونے کی خوشخبری سنائی ۔ لڑکا ہوگا ، حافظ ہوگا ، قاری ہوگا ، مقتدیٰ ہوگا ، عالم ہوگا ، حاجی ہوگا ، قاری صاحبؒ فرماتے تھے کہ ان بزرگ کے یہ کلمات کسی حد تک تو صادق آہی گئے ۔

تعلیم و تربیت :
۱۳۲۲ھ میں سات سال کی عمر میں دارالعلوم دیوبند میں داخل کئے گئے ، اور وقت کے ممتاز اکابر علماء و بزرگوں کے عظیم الشّان اجتماع میں مکتب نشینی کی تقریب عمل میں آئی ۔ دو سال کی قلیل ترین مدت میں قرآن مجید قراءت و تجوید کے ساتھ حفظ کیا ، حفظِ قرآن مجید سے فراغت کے بعد درجۂ فارسی میں آپ کو داخل کیا گیا ، وہاں سے پانچ سال فارسی اور ریاضی کے درجات میں تعلیم حاصل کرکے عربی کا نصاب شروع کیا جس سے ۱۳۳۷ھ مطابق ۱۹۱۸ء میں فراغت اور سند فضیلت حاصل کی ۔ دوران تعلیم میں دارالعلوم کے تمام اساتذہ آپ کے ساتھ بوجہ خاندانی شرف اور آبائی نسبت کے شفقتوں و محبّتوں سے پیش آتے تھے اور مخصوص طریق پر تعلیم و تربیت میں حصہ لیتے رہے ، حدیث کی خصوصی سند آپ کو وقت کے مشاھیر علماء و اساتذہ سے حاصل ہوئی اور بہت سے بزرگوں کی ہمت اور توجہ آپ کے ساتھ تھی ۔ حضرت مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوریؒ نے بطور خود آپ کو سہارنپور طلب فرماکر اوائل حدیث کی تلاوت کراکر اپنی خصوصی سند خود اپنے دستِ مبارک سے لکھ کر عطا فرمائی ، اِسی طرح مولانا عبد اللہ انصاری صاحب انبیٹھویؒ اور اپنے والد ماجد حضرت مولانا حافظ مُحمّد احمد صاحبؒ سے بھی سندِ حدیث لی ۔
علمِ حدیث میں آپ کے خصوصی اُستاذ مُحدّثِ کبیر حضرت علامہ سید مُحمّد انور شاہ کشمیریؒ تھے ۔
آپ کے اساتذۂ گرامی میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن صاحب دیوبندیؒ ، امام العصر ، مُحدّثِ کبیر حضرت علامہ سید مُحمّد انور شاہ صاحب کشمیریؒ ، مفتیٔ اعظم حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمٰن صاحب عثمانیؒ ، حکیم الامّت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ ، حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب عثمانیؒ ، شیخ الاسلام حضرت علاّمہ شبّیر احمد صاحب عثمانیؒ ، حضرت مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوریؒ ، شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی صاحب امروہویؒ ، حضرت علّامہ مُحمّد ابراہیم صاحب بلیاویؒ اور حضرت مولانا سیّد اصغر حسین صاحب دیوبندیؒ جیسے نامور امام علم و فضل شامل ہیں ۔

راہِ سلوک :
آپ نے اپنا سِلسلۂ بیعت ۱۳۳۹ھ میں یعنی دارالعلوم سے فراغت کے دو سال بعد ، اولاً حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب دیوبندیؒ سے قائم کیا ، تزکیہ و احسان کی منزلیں طے ہی کررہے تھے کہ پانچ ماہ بعد حضرت شیخ الہندؒ کی وفات ہوگئی ۔ ان کی وفات کے بعد حضرت علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ کی طرف رجوع کیا اور تربیت حاصل کی ۔ بعد ازاں ۱۳۴۳ھ میں حکیم الامّت حضرت تھانویؒ کی طرف رجوع کیا اور اُنہیں کے زیر تربیت سلوک و معرفت کی منزلیں طے کیں ۔
۱۳۵۰ھ مطابق ۱۹۳۱ء میں حضرت تھانویؒ نے آپ کو خلافت و اجازت سے نوازا ۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو اس راہ میں بھی اپنی رحمت و فضل سے نوازا تھا اور آپ کے ذریعہ بے شمار ہزاروں افراد کی اصلاح ہوئی اور لاکھوں کو اپنے فیض علمی و روحانی سے مالا مال کیا ، اور ان کی ایمانی و روحانی و احسانی زندگی میں انقلاب پیدا ہوا ، اور ہزاروں کی بگڑی زندگی سنور گئی ، کتنے لوگ آپ کے دستِ حق پرست پر حلقۂ بگوش اسلام ہوئے ، آپ کا حلقہ بیعت و ارشاد ہندوستان سے نکل کر بلاد و ممالک تک پہنچا اور بہت سے لوگوں کو آپ نے اجازت بھی دی ، آپ کے خلفاء و مجازین سیکڑوں کی تعداد میں ہیں ۔

درس و تدریس :
فراغت کے بعد آپ نے دارالعلوم دیوبند ہی میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور درسِ نظامی کی مختلف علوم و فنون کی اہم کتابیں پڑھائیں ۔ خصوصیت کے ساتھ “حجۃ اللہ البالغۃ” تقریباً ہمیشہ ہی آپ کے درس میں رہی ، اِس کے علاوہ ابن ماجہ شریف ، مشکوٰۃ شریف اور شمائل ترمذی کا بھی آپ نے سال ہا سال درس دیا ، ۱۳۳۷ سے ۱۳۴۷ تک آپ نے مستقلاً درس دیا ، اُس کے بعد اہتمام کی ذمّے داری کے ساتھ ساتھ بھی آپ نے “حجۃ اللہ البالغۃ” کا درس تقریباً آخر تک جاری رکھا ۔ ذاتی علم و فضل ، ذہانت و ذکاوت اور آبائی نسبت کے باعث بہت کجلد طلبہ کے حلقے میں آپ کے ساتھ گرویدگی پیدا ہوگئی ۔ تدریسی زمانہ ۱۳۳۷ھ سے ۱۳۴۳ھ تک رہا ۔ اوائل ۱۳۴۱ھ مطابق ۱۹۲۴ء میں اکابر و مشائخ کے مشورے پر نائب مھتمم کے منصب پر آپ کا تقرر کیا گیا ، جس پر اوائل ۱۳۴۸ھ مطابق ۱۹۲۸ء تک آپ اپنے والد ماجد اور حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانیؒ کی نگرانی میں ادارۂ اہتمام کے انتظامی معاملات میں حصہ لیتے رہے ۔ ۱۳۴۸ھ مطابق ۱۹۲۹ء میں حضرت مولانا حبیب الرحمٰن عثمانیؒ کے انتقال کے بعد آپ کو باقاعدہ طور پر مستقل مھتمم بنایا گیا ۔ اور تاحیات ۱۴۸۲ھ تک مسند اہتمام پر فائز رہے ۔ سابقہ تجربۂ ، اہلیت کار اور آبائی نسبت کے پیش نظر یہ ثابت ہوچکا تھا کہ آپ کی ذات میں اہتمام دارالعلوم کی صلاحیت بدرجۂ اتم موجود ہے ، چنانچہ مہتمم ہونے کے بعد آپ کو اپنے علم و فضل اور خاندانی وجاہت و اثر کی بنا پر ملک میں بہت جلد مقبولیت اور عظمت حاصل ہوگئی ، جس سے دارالعلوم کی عظمت و شھرت کو کافی فوائد حاصل ہوئے ۔
دارالعلوم نے آپ کے زمانۂ اہتمام میں نمایاں ترقی حاصل کی اور آپ نے اپنے زمانہ میں دارالعلوم کی شھرت و عظمت کو چار چاند لگادیے اور پوری دنیا میں دارالعلوم دیوبند کا نام روشن ہوا ۔ ۱۳۴۸ھ مطابق ۱۹۲۸ء میں جب آپ نے انتظام دارالعلوم کی باگ دوڑ ہاتھ میں لی تو اس کے انتظامی شعبے ۸ تھے جن کی تعداد آپ نے ۲۳ تک پہنچادی ، اس وقت دارالعلوم کی سالانہ آمدنی کا بجٹ ۵۰۲۶۲ روپیہ سالانہ تھا ، آپ کے زمانے میں ۲۶ لاکھ تک پہنچ گیا ۔ ۱۳۴۸ھ مطابق ۱۹۲۹ء میں ملازمین دارالعلوم کے عملے میں ۴۵ افراد تھے ، آپ نے ان کی تعداد دو سو تک پہنچادی ، اس وقت اساتذہ کی تعداد ۱۸ تھی جو بڑھ کر ۵۹ ہوگئی ، طلبہ کی تعداد ۴۸۰ تھی جو آپ کے زمانۂ اہتمام میں دو ہزار تک پہنچ گئی ۔ اسی طرح عمارتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ، دارالتفسیر ، دارالافتاء ، دارالقرآن ، مطبخ جدید ، فوقانی دارالحدیث ، بالائی مسجد ، باب الظاھر ، جامعۂ طبیہ جدید ، دو منزلہ دارالاقامہ ، مہمان خانہ کی قدیم عمارت ، کتب خانے کا وسیع و عریض ھال ، دارالاقامہ جدید ، افریقی منزل ، مطبخ کے قریب ، تین درسگاہوں کا اضافہ ؛ حضرت ممدوح ہی کے دور اہتمام کی تعمیرات ہیں ۔
غرض کہ دارالعلوم کے ہر شعبے نے آپ کے دور اہتمام میں نمایاں ترقی کی ۔ دارالعلوم کی مجالس انتظامیہ و شوریٰ نے مختلف اوقات میں آپ کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف اور اظہار قدردانی کے سلسلے میں متعدد مرتبہ تجاویز پاس کیں ۔ دارالعلوم کی شمع کو روشن رکھنے کے لئے پیرانہ سالی میں بھی جوانوں کی طرح سرگرم عمل رہے ۔ عالمی پیمانے پر اسلام اور مسلمانوں کے تئیں دارالعلوم کی خدمات کو متعارف کرانے میں بھی آپ پیش پیش رہے ۔ آپ کے دور اہتمام میں دنیا کے گوشہ گوشہ سے حصول علم کے لئے آنے والے طلبہ کا سلسلہ روز افزوں رہا ۔

خدمات و کارنامے :
درس و تدریس کے علاوہ فن خطابت اور تقریر میں بھی آپ کو خداداد ملکہ اور قوت گویائی حاصل تھی اور زمانۂ طالب علمی ہی سے آپ کی تقریریں پبلک جلسوں میں شوق کے ساتھ سنی جاتی تھیں ، اہم سے اہم مسائل پر دو دو تین تین گھنٹے مسلسل اور بے تکلف تقریر کرنے اور ٹھوس علمی مواد پیش کرنے میں آپ کو کوئی رکاوٹ اور تکلف نہیں ہوتا تھا ۔ حقائق اور اسرار شریعت کے بیان اور ایجاد مضامین میں ٘آپ کو خاص قدرت حاصل تھی ، جسے آپ کے اکابر و اساتذہ بھی تسلیم کرتے تھے ۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ آپ کے علمی اور حکیمانہ اسلوب بیان سے خاص طور پر محظوظ ہوتا تھا ۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ اور دوسری یونیورسٹیوں میں آپ کی تقریریں خاص طور پر مقبول تھیں ، بعض معرکتہ الآراء تقریریں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے شائع ہوچکی ہیں ۔ ملک کا کوئی خطہ ایسا نہیں ہے جس میں آپ کی تقریروں کی گونج نہ پہنچی ہو ، آپ کی رواں دواں اور دلکش تقریر جب علم کے گہرے سمندر سے گزرتی تھی تو لہروں کا سکوت قابل دید ہوتا تھا ۔ جمعیۃ العلماء کے سالانہ اجلاسوں میں آپ کے خطباتِ صدارت بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھے گئے ہیں ، آپ کے منتخب علمی خطبات دس جلدوں میں ” خطبات حکیم الاسلام ” کے نام سے شائع ہوچکے ہیں ۔
آپ کی علمی تقریروں سے ایک خاص حلقۂ اثر پیدا ہوا اور بیرون ہند کے علمی حلقوں میں بھی آپ کی خطابت کے اثرات پہنچے ۔ آپ نے دارالعلوم کے اہتمام کے ساتھ ساتھ تبلیغ دین کا بھی حق ادا کیا پوری دنیا کے ممالک میں آپ نے متعدد بار سفر کئے اور اسلام کی سر بلندی کے لئے کوشاں رہے ، آپ کی تقریروں نے ملک و بیرون ملک میں ایک وسیع حلقہ پیدا کیا ۔ اور آپ ایک عظیم خطیب ، ادیب ، مُحقق ، مدبر ، محدّث ، مفسّر ، متکلّم ، مصنف اور شیخِ کامل تسلیم کئے گئے ۔ متعدد بار حج و زیارت کی سعادت حاصل کی اور پورے عالم اسلام میں حکیم الاسلام کے لقب سے شھرت پائی ۔
۱۳۵۳ھ مطابق ۱۹۳۴ء میں بسلسلۂ سفر حجاز آپ نے ہندوستان کے ایک مؤقر وفد کے صدر کی حیثیت سے سلطان ابن سعود کے دربار میں جو تقریر فرمائی اس نے سلطان کو بہت متأثر کیا ، سلطان ابن سعود نے شاہی خلعت اور بیش قیمت کتب کے عطیہ سے اعزاز بخشا ۔
۱۳۵۸ھ مطابق ۱۹۳۹ء میں آپ کا سفر افغانستان علمی خدمات کی کی ایک مستقل تاریخ ہے ، آپ نے دارالعلوم کے نمائندے کی حیثیت سے دارالعلوم اور حکومت افغانستان کے درمیان علمی و عرفانی روابط قائم کرنے کے لئے یہ سفر اختیار فرمایا تھا ۔ افغانستان کے علمی ، ادبی ، سرکاری اور غیر سرکاری انجمنوں اور سوسائٹیوں نے مدعو کیا تھا ۔ آپ کی عالمانہ تقریروں سے وہاں کے علمی اور ادبی حلقے بہت متأثر ہوئے ۔ اسی طرح آپ نے پاکستان ، بنگلہ دیش ، انڈونیشیا ، ملیشیا ، برما ، عالم عرب ، حبش ، ( ایتھوپیا ) ، کینیا ، مڈغاسکر ، جنوبی افریقہ ، زنجبار ، روڈشیا ، ری یونین ، انگلینڈ ، فرانس ، جرمنی ، کناڈا ، امریکہ وغیرہ ممالک کا دورہ کیا ۔
حضرت قاری صاحبؒ ہندوستان کے مؤقر ادارہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے مؤسس اور بانی بھی ہیں ۔ حکومت ہند کے ذریعہ مسلمانوں کے شرعی قوانین کے تبدیل کرنے یا اس سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے خلاف ممبئی میں ۱۹۷۲ء میں ایک عمومی کنونشن بلایا گیا جس میں ہندوستان میں امت مسلمہ کے تمام گروہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے اور اس کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تشکیل عمل میں آئی ۔ حضرت قاری صاحبؒ اس بورڈ کے بانی اور صدر اول مقرر ہوئے اور تاعمر بالاتفاق اس بورڈ کے صدر رہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ آپ کی دلکش شخصیت کے بے شمار پہلو ہیں ، شرافت و انسانیت ، سراپا انکسار ، پاک باطنی ، علم و فضل ، خطابت و تقریر ، اور وعظ و تلقین ، سادگی اور عجز و انکساری ، حکیمانہ گفتگو ، فصاحت و بلاغت ؛ غرض کہ آپ کی شخصیت کردار و اعمال اور جلال و جمال کا ایک حسین امتزاج تھی ۔

علمی یادگاریں :
دارالعلوم کے انتظامی امور کے علاوہ تصنیف و تالیف سے آپ کو طبعی دلچسپی تھی ۔ آپ کا یہ مشغلہ دارالعلوم کے انتظامی معاملات اور اوقات تدریس کے علاوہ ہمیشہ جاری رہا ، بالخصوص دوران سفر کے فارغ اوقات اسی میں صَرف ہوتے تھے ۔ آپ اپنے وقت کے عظیم مصنف تھے ، آپ کی تصانیف کی تعداد کافی ہے ، مختلف موضوعات پر تقریبا سو سے زائد تصنیفات ہیں ، اور ہر کتاب اپنے مواد اور اپنی جامعیت اپنے اسلوب بیان اور اپنے طرز استدلال میں انوکھی ہے ، ہر کتاب آپ کی مخصوص طرز تحریر کے ساتھ عالمانہ و محققانہ مباحث زبان و بیان کی رعنائیوں اور دل آویزیوں سے آراستہ پیراستہ ہے ۔ تصنیف و تالیف کا سلسلہ اخیر عمر تک جاری رہا ، مختلف دینی علمی اور تاریخی موضوعات پر تقریبا سو سے زائد مطبوعہ اور غیر مطبوعہ رسالے اور کتابیں اپنی یادگار چھوڑیں جن میں سے بعض کتابوں کے نام درج ذیل ہیں :
( 1 ) التشبہ فی الاسلام ( 2 ) مشاھیر امت ( 3 ) کلمات طیبات ( 4 ) مقامات مقدسہ ( 5 ) اطیب الثمر فی مسئلۃ القضاء والقدر ( 6 ) سائنس اور اسلام ( 7 ) اسلام اور مسیحی اقوام ( 8 ) مسئلہ زبان اردو ہندوستان میں ( 9 ) دین و سیاست ( 10 ) اسباب عروج و زوال اقوام ( 11 ) اسلامی آزادی کا مکمل پروگرام ( 12 ) الجتہاد والتقلید ( 13 ) اصول دعوت اسلام ( 14 ) اسلامی مساوات ( 15) تفسیر سورۂ فیل ( 16 ) فطری حکومت ( 17 ) فلسفۂ نماز ( 18 ) نظریۂ دو قرآن کا جائزہ ( 19 ) اسلام میں اخلاق کا نظام ( 20 ) خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم ( 21 ) حدیث کا قرآنی معیار ( 22 ) علماء دیوبند کا دینی رخ اور مسلکی مزاج ( 23 ) شرعی پردہ ( 24 ) اسلام میں فرقہ واریت ( 25 ) آفتاب رسالت ( 26 ) حدیث رسول کا قرآنی معیار وغیرہ ۔

شعر و شاعری :
آپ کو اردو شاعری سے اچھی مناسبت تھی ، بلند پایہ مصنف اور خطیب ہونے کے ساتھ آپ قادر الکلام شاعر بھی تھے ، اور جب کبھی کہنے پر آتے تو چار چار پانچ پانچ سو اشعار پر مشتمل نظمیں کہہ ڈالتے تھے جس پر آپ کے شاعری مجموعۂ کلام ( 1 ) “عرفان عارف” ( 2 ) جنون شباب ( 3 ) ارمغان دارالعلوم ، شاھد ہیں ۔
آپ کے ہم عصر قریبی ساتھیوں میں مفتیٔ اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ ، حضرت علامہ مولانا مُحمّد ادریس کاندھلویؒ اور محدّث کبیر حضرت مولانا سیّد بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنیؒ تھے ۔

جلسۂ صد سالہ :
۱۹۸۰ء میں آپ کے زمانۂ اہتمام میں دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس کی چہل پہل آج تک لوگوں کے قلوب میں تازہ ہے ، اس تاریخ ساز اجلاس سے دنیا نے دیکھ لیا کہ نہ صرف برِصغیر بلکہ عالم انسانیت پر دارالعلوم دیوبند کے علمی و روحانی فیض کا دائرہ کس قدر وسیع ہے ۔ آپ نے کبرِ سنی اور انتہائی ضعف کے باوجود اپنی وسعت فکری اور انتظامی پختگی کو بروئے کار لاتے ہوئے اس عالم گیر اجلاس کے ذریعہ فکر دیوبندیت کو عام کیا اور قومی و بین الاقوامی شھرت یافتہ دنیا بھر کی شخصیتوں سمیت عوام و خواص کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کی لہروں کے ذریعہ ثابت کردیا کہ دارالعلوم دیوبند ایک تعلیمی ادارہ ہی نہیں بلکہ پوری ملتِ اسلامیہ کی تمناؤں کا مرکز بھی ہے ۔

دارالعلوم میں خلفشار اور اہتمام سے استعفاء :
۱۹۸۰ء کے بعد جب کبر سنی کی وجہ سے اہتمام کی ذمہ داریاں آپ پر گراں ثابت ہونے لگیں تو آپ نے مجلس شوریٰ میں ایک معاون کی ضرورت کا اظہار فرمایا ، چنانچہ حسبِ درخواست مجلسِ شوریٰ نے معاون کے طور پر حضرت مولانا مرغوب الرحمٰن صاحب بجنوریؒ کو منتخب فرمایا ، لیکن اس کے بعد ہی دارالعلوم میں اہتمام اور مجلس شوریٰ کے درمیان اختلاف اور خلفشار رونما ہوجانے کے بعد ٹکراؤ کی صورت پیدا ہوگئی ۔ آخر کار ۱۸ ذِی قعدہ ۱۴۰۲ء مطابق ۹ اگست ۱۹۸۲ء کو حضرت قاری صاحبؒ نے اہتمام سے از خود کنارہ کشی مناسب سمجھی اور دارالعلوم سے قلبی لگاؤ کے اظہار کے باوجود اہتمام کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کردئے جانے کی درخواست کی ۔ آپ کی پیرانہ سالی کو پیش نظر رکھتے ہوئے دارالعلوم کی مجلسِ شوریٰ نے آپ کا استعفاء قبول فرمالیا ۔ الغرض آپ نے ساری حیات خدمت اسلام اور خدمت دارالعلوم میں گزاری ۔

وفات :
۱۹۸۲ء کے اوائل ہی سے آپ کی صحت دن بدن گرتی چلی گئی ۔ بالآخر ۶ / شوّال ۱۴۰۳ء مطابق ۱۷ / جولائی ۱۹۸۳ء بروز اتوار صبح گیارہ بجکر پانچ منٹ پر ۸۸ / سال کی عمر میں دارالعلوم دیوبند اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے پلیٹ فارم سے قوم و ملت کی عظیم خدمت انجام دے کر آپ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے ۔ اِنَّا لِلہ وَاِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنْ ۔
آپ کی نمازِ جنازہ ۶ / ۷ شوّال کی درمیانی شب میں بعد نمازِ عشاء ۱۱ بجے اِحاطۂ مولسری دارالعلوم دیوبند میں آپ کے صاحبزادۂ اکبر خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمیؒ نے پڑھائی ، جس میں ہزاروں اساتذہ و طلبہ و علماء باشندگانِ شہر اور مختلف اطراف سے آئے ہوئے علماء و صلحاء اور عام مسلمانوں نے شرکت کی ، اور قبرستان قاسمی میں اپنے جدّ امجد ججۃ الاسلام حضرتِ اقدس مولانا مُحمّد قاسم صاحب نانوتویؒ کے پہلو میں تدفین عمل میں آئی ۔
آل انڈیا ریڈیو کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی ۔
۷ / صفر ۱۴۰۴ء مطابق ۱۳ نومبر ۱۹۸۳ء کی مجلس شوریٰ میں تعزیت کی تجویز پاس کی گئی جس میں کارناموں کو سراہتے ہوئے آپ کی روح کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ تجویز کا ایک اقتباس یہ ہے :
“مرحوم و مغفورکو اللہ نے لا تعداد محاسن و مناقب اور فضائل و مکارم سے نوازا تھا ، علوم ظاھری میں وہ امام العصر علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے مایۂ ناز تلمیذ رشید تھے اور علوم باطنی میں ان کو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ جیسے عظیم المرتبت شیخ کی خلافت حاصل تھی ، انہوں نے اپنے سر چشمۂ فیض سے درس و تدریس ، موعظت و دعوت اور رشد و صحبت کے مختلف ذرائع سے اپنی طویل عمر میں نہ صرف ہندوستان بلکہ عالم اسلام کو سیراب کیا ۔” ( تجویز تعزیت ، اجلاس مجلس شوریٰ ، 7 / صفر ۱۴۰۴ء مطابق ۱۳ نومبر ۱۹۸۳ء )
( تاریخ دارالعلوم : 235/ 2 ، پسِ مرگ زندہ صفحہ 109 تا 124 ، دارالعلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ صفحہ : 518 ، تذکرۂ اکابر صفحہ : 190 ، سو بڑے علماء صفحہ : 109 ، حیاتِ طیّب : 76/1 ، ملت اسلام کی مُحسن شخصیات صفحہ : 224 )

مقصد تخلیق انسانیاس حوالے سے علماء کے تین طبقے ہیں:۱۔ بعض علماء کی نظر اس آیت پر ۔ انی جاعل فی الارض خلیفۃ۔ (البقرۃ: ۳۰) وغیرہ پر ہے۔ لہٰذا ان علماء کی رائے میں انسانی تخلیق کا اصل مقصد خلافت ہے۔

مقصد تخلیق انسانی
اس حوالے سے علماء کے تین طبقے ہیں:
۱۔ بعض علماء کی نظر اس آیت پر ۔ انی جاعل فی الارض خلیفۃ۔ (البقرۃ: ۳۰) وغیرہ پر ہے۔ لہٰذا ان علماء کی رائے میں انسانی تخلیق کا اصل مقصد خلافت ہے۔ جیسا کہ ابن عباس سے مروی تفسیر ہے کہ خلیفہ سے مراد خلیفۃ اللہ ہے۔ لہٰذا ان علماء کے ہاں اہمیت سیاسی عمل کو حاصل ہے۔ ذاتی اصلاح کو یا تو بالکل نظر انداز کیا گیا ہے، یا پھر ثانوی حیثیت دی گئی ہے۔
۲۔ بعض دوسرے علماء کی نظر و ما خلقت الجن والانس الا لیعبدون۔ (الذارایات: ۵۶) پر رہی ہے۔ ان کی رائے میں انسانی تخلیق کا اصل مقصد عبدیت (ذاتی اصلاح) ہے۔ خلافت (سیاسی عمل) کو یا تو بالکل نظر انداز کیا گیا ہے، یا پھر ثانوی حیثیت اس کو حاصل ہے۔
۳۔ تیسرا طبقہ علماء کا ایسا ہے کہ ان دونوں آراء میں اشتباہات بیان کرتے ہیں۔ اول رائے میں یہ کہ خلافت بمعنی اصلاح جامعہ لینا اور سیاسی عمل کو اہمیت دے کر عبدیت یعنی ذاتی اصلاح کو نظر انداز کرنا یاثانوی حیثیت دینا اس لیے مناسب نہیں ہے کہ نبی ﷺ فرماتے ہیں: ’’بُنی الاسلام علی خمس، شہادۃ ان لا الٰ۔ہ الا اﷲ وان محمدا عبدہ ورسولہ واقام الصلاۃ وایتاء الزکاۃ وحج البیت وصوم رمضان‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث: ۱۱۳) اس کا معنی یہ ہے کہ پُرامن جامعہ یا ایسا جامعہ جو اللہ جل جلالہ کی ہدایات اور نبی ﷺ کی سنت کے سامنے تسلیم ہو، اسی صورت میں ممکن ہے کہ کم از کم اس کے بااختیار لوگ ذاتی اصلاح کے حامل ہوں اور ذاتی کردار ان کی عبدیت کی ہو یعنی اللہ اور رسول کی کامل تعظیم وکامل اطاعت کی صفت سے متصف ہوں۔ کیونکہ اسلام بمعنی سلم یعنی امن ہو یا بمعنی تسلیم یعنی سپردگی، دونوں صورتوں میں مفہوم یہ نکلتا ہے کہ امن کا حامل جامعہ اور ایک ایسا جامعہ جس نے سب کچھ اللہ اور رسول کے سپرد کیا ہو اور اس کا کوئی بھی عمل اور تصرف اللہ کی ہدایات اور نبی ﷺ کی سنت کے خلاف نہ ہو، اسی صورت میں ممکن ہے جب افراد جامعہ میں یہ پانچ چیزیں موجود ہوں جن کا تعلق عبدیت یعنی ذاتی اصلاح سے ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ چھت دیواروں یا ستونوں پر قائم ہے۔ معنی یہ کہ صرف دیواریں یا ستون تعمیر نہیں کہلاتے اور نہ ہی موسمی تغیرات سے بچائو کا باعث بنتے ہیں۔ اور نہ ہی کسی ٹیک کے بغیر چھت کا کھڑا کرنا ممکن ہے۔ لہٰذا جیسا کہ ہر تعمیر میں چھت اور اس کے ٹیک چاہے دیواروں کی صورت میں ہوں یا ستونوں کے، ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح خلافت بمعنی اصلاح جامعہ یعنی سیاسی عمل اور عبدیت یعنی افراد کی ذاتی اصلاح الٰہی ہدایات اور نبی ﷺ کی سنت کے مطابق بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ذاتی اصلاح (عبدیت) بغیر جامعہ کی اصلاح کے کامل نہیں ہوسکتی اور جامعہ کی اصلاح بغیر ذاتی اصلاح کے ممکن نہیں۔ اسی لیے ایک موقع پر نبی ﷺ فرماتے ہیں: ’’رجعنا من الجہاد الاصغر (یعنی طاغوت اور ظالم قوت کے ساتھ حق کیلئے جنگ کرنے کے عمل سے) الی الجہاد الاکبر (یعنی اپنے آپ کو اندرونی کیفیات اور ظاہری اعمال میں خودپسندی، خودغرضی، مفاد پرستی غرضیکہ ذاتی زندگی میں نفس کے ہر قسم کے تسلط سے نجات حاصل کرنے کی جنگ جس کو تزکیہ نفس کہتے ہیں) یعنی ہم پہلے جہاد سے جو چھوٹا تھا دوسرے بڑے جہاد جو نفس کے ساتھ ہے لوٹ آئے۔ ظاہر بات ہے جب تک مجاہدین کی وہ جماعت جو طاغوت کے ساتھ مصروف جنگ ہے۔ اپنی ذات کے اندر نفس کے تسلط سے آزاد اور اللہ اور رسول کی عبدیت کی صفت سے متصف نہ ہوگی وہ اس جنگ کے ذریعے سے شاید ظالم کو بدل دیں۔ مگر ظلم کا خاتمہ نہیں کرسکتے۔ اس لیے کہ یہ جماعت خود اپنے نفس کے تسلط سے آزاد نہیں اور نہ ہی عبدیت کی صفت سے متصف ہے۔ تو وہ اگر اس جنگ کے ذریعے جامعہ کو مسلط طاغوت سے نجات بھی دلادیں۔ تو یہ نئے طاغوت کی شکل میں جامعہ پر مسلط ہونگے۔ لہٰذا جامعہ آزادی کی نعمت سے دور ہونے کی بجائے نئے طاغوت کی غلامی میں جکڑے جائینگے اور بہت ممکن کہ نیا طاغوت پرانے کی نسبت زیادہ خطرناک اور ظالم ثابت ہو۔ لہٰذا مشہور کہاوت کے مطابق بکری کیلئے کیا فرق ہے کہ اگر بھیڑیئے سے چھڑائے اور کتا خود کھائے۔
معلوم ہوا کہ جامعہ کو طاغوت سے نجات دلانے اور اللہ ورسول کی اطاعت میں لانے کے عمل میں مصروف قوت و جماعت کے لیے لازم ہے کہ وہ اور اس کے علمبردار افراد اپنی ذاتی زندگی میں اندرونی احساسات و میلانات اور ظاہری کردار و عمل کے میدان میں نفس کے ہر قسم کے تسلط سے آزاد ہوں۔ وگرنہ اگر یہ جماعت دعوت و سیاست کے میدان میں ہے تو اس کی دعوت و سیاست ہدایت و رہنمائی کا ذریعہ نہیں بلکہ نفرت کا ذریعہ بنے گا اور اگر حکومت اور جہاد کے میدان میں رہے تو یہ حکومت اور جہاد ظلم کے خاتمے کا نہیں بلکہ پرانے طاغوت کے بدلنے اور نئے طاغوت کے مسلط ہونے کا ذریعہ بنے گا۔
ب۔ جن علماء کی نظر عبدیت کی آیت پر ہے اس میں یوں اشتباہ بیان کیا جا سکتا ہے کہ اس آیت کا مقصد اگر ذاتی اصلاح ہے تو پھر آیت میں جن اور انس دونوں کا مقصد تخلیق بیان کیا گیا ہے۔ اگر دونوں کا مقصد تخلیق ایک ہے تو دونوں فضیلت میں برابر ہونے چاہئیں جبکہ علماء کرام فرماتے ہیں کہ انس کو جن پر فضیلت ہے تو وہ فضیلت کس چیز میں؟
۲۔ بلکہ انبیاء علیہم السلام کی دعوت افراد کی ذاتی اصلاح کی بنیاد پر صالح جامعہ کی تشکیل کے لیے تھی۔ جیسا کہ کمپنی جہاں اپنی ایجاد کردہ مشن کے لیے پرزے بناتی ہے وہاں ان پرزوں کو باہم جوڑ کر ایک واحد شکل بھی دیتی ہے تب پھر کمپنی کا یہ پورا عمل کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ لہٰذا پرزوں کی صالح بناوٹ اور ان کے جوڑنے سے مشین کی تکمیل ہوتی ہے اور مشین کے مکمل ہونے سے ہر ایک پرزہ اپنی اپنی جگہ پر کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ یہی کیفیت صالح جامعہ اور اس کے صالح افراد کی ہے اور نبی ہو یا امام جہاں دعوت علی وجہ البصیرت کے ذریعے عبدیت کی بنیاد پر صالح افراد تیار کرنے کے عمل میں مصروف ہوتا ہے وہاں ان صالح افراد سے ایک صالح جامعہ کی تشکیل کلی دعوت و عمل بھی جاری رکھتا ہے تو گویا عبدیت اور خلافت کے دعوت و عمل کو ایک ساتھ جاری رکھنا ہی انبیاء علیہم السلام کا مشن تھا اور ہمارے نبی ﷺ کی نبوت اور ان کی دعوت و عمل رہنمائی اور سیرت و سنت سے عبدیت اور خلافت دونوں کی تکمیل ہو چکی ہے اس لیے وہ نبی بھی تھے، امام بھی تھے اور خلیفہ بھی۔
۳۔ موسیٰ علیہم السلام کی نبوت اگرچہ بنی اسرائیل کو فرعون کے استبداد، ظلم اور تسلط سے نجات دلانا تھا لیکن سب سے پہلا حکم یہ ہوتا ہے کہ (طٰہٰ: ۲۴) سیدھا فرعون کے پاس جا کر اس کی حاکمیت اور سیاست تمام خرابیوں اور فساد، سرکشی اور بغاوت کی جڑ ہے تو موسیٰ علیہ السلام نے جہاں دعوت کے ذریعے بنی اسرائیل کو الٰہی عبدیت کی جانب راغب کرنے کی جدوجہد کی وہاں طاغوت اور اس کے تشکیل کردہ طاغوتی جامعہ کی اصلاح کے لیے بھی جدوجہد جاری رکھی۔ لہٰذا عبدیت و خلافت (سیاست) دونوں کے لیے دعوت و عمل جاری رکھا۔
۴۔ انبیاء علیہم السلام کی تاریخ میں قامل توجہ بات یہ ہے کہ ان کے اور ان کی قوموں کے درمیان اختلاف اور محاذ آرائی عبدیت یعنی اپنی ذات کو الٰہی ہدایات کے تابع بنانے کے میدان میں تھی۔ یا سیاست و خلافت یعنی ایک صالح جامعہ کی تشکیل اور اس کی رہبری اور نگرانی پر تھی۔
موسیٰ علیہ السلام سے اس کی قوم کہتی ہے: (یونس: ۷۸) کیا تم اسی لیے ہمارے پاس آئے ہو کہ جس طرز زندگی پر ہم نے اپنے آباء واجداد کو پایا ہے اس سے ہمارے رخ کو موڑ کر اپنے پیچھے لگائے تاکہ اس خطہ زمین پر حاکمیت تم دونوں بھائیو کی ہو۔ ہم کسی بھی صورت میں تمہاری اس حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ شعیب علیہ السلام سے قوم نے کہا (ھود: ۸۷) یعنی کیا تمہاری خدا پرستی تمہیں یہی بتاتی ہے کہ ہمارے آباء واجداد جن کی تعظیم و اطاعت کرتے تھے، ان سے یکسر دستبردار ہو کر چھوڑ دیں اور تمہارے پیچھے ایسے لگ جائیں کہ ہمیں اپنے مال میں بھی اپنے مرضی کا تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو بلکہ زندگی کے ہر معاملہ میں رہنمائی آپ سے لیں گے اور تعظیم اطاعت آپ کی کریں گے۔ یہ تو ہم تم کو بڑا نیک اور پارسا سمجھ رہے تھے تم نے بھی تسلط حاصل کرنے کی ٹھان لی ہے۔ جب ابو طالب مرض موت میں مبتلا ہوئے تو سرداران قریش نے طے کیا کہ ابو طالب کے پاس چلتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ بھتیجے اور ہمارے درمیان تصفیہ کرا دو۔ قریش میں یہی ایک شخص ہے کہ یہ تصفیہ کراسکتا ہے اگر یہ نہ رہا تو یہ تصفیہ کبھی بھی نہیں ہوگا۔ اس شخص کے دونوں طرف روابط ہیں ہم سے عقیدے کا اور ان سے رشتے اور تعاون کا، لہٰذا ہم دونوں اس پر اعتماد کرتے ہیں۔ ابوجہل سمیت سرداران قریش ابو طالب کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ بھتیجے کے ساتھ ہمارا تصفیہ کرا دو ہم تمام سرداران قریش اس اکیلے شخص کو اپنا ہم پلہ تسلیم کرتے ہیں۔ لہٰذا انفرادی زندگی ہم اس کے حوالے کرتے ہیں۔ بیشک ایک خدا کا عقیدہ رکھے عبادت اور نذر و نیاز ایک خدا کے لیے دے عبادت و سجدہ ایک خدا کو کرے اور لوگو کو بھی دعوت دے لیکن اجتماعی معاملات ہم پر چھوڑ دے۔ زندگی کے دو شعبوں میں سے ایک شعبہ انفرادی زندگی کا اس کے حوالے ہوگا اور دوسرا شعبہ اجتماعی زندگی کی رہبری اور نگرانی اور اس پر غلبہ اور بالادستی ہم پر چھوڑے۔ راستے دو ہو جائیں گے ذاتی زندگی کی تشکیل اس کے حوالے اور اجتماعی زندگی کی سرپرستی ہمارے حوالے ہوگی۔ لہٰذا نہ ہم اس کے راستے اور دعوت کے روک بنیں گے اور نہ وہ ہماری سرداری اور سربراہی کا خطرہ۔
ابو طالب نے نبی ﷺ کو بلا کر کہا کہ یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے کہ اگر قوم کے تمام سربراہان و سرداران آپ کو اپنا مساوی تسلیم کر کے آدھا حصہ زندگی کا آپ کو حوالہ کرتے ہیں تو آپ کو یہ فیصلہ تسلیم کرنا چاہیے۔
نبی ﷺنے ابوجہل کو مخاطب کر کے فرمایا: کیا میں تمہیں ایک ایسی بات نہ بتاؤں کہ اگر تم لوگ میری اس بات کو مانو گے تو تمام عرب پر تو تمہارا اقتدار رہے گا ہی، بلکہ عجم بھی تمہارے اقتدار کے تابع ہو کر تمہیں جذبہ دیں گے۔ ابو جہل نے کہا اس قسم کے دس کلمے بتا دو۔ نبی ﷺ نے فرمایا: بولو ’’لا الٰ۔ہ الا اﷲ‘‘ سرداران قریش سمجھ رہے تھے۔ کہ الٰہ کا معنی حاکم ہے تو ہم اس اللہ کے محکوم ہوں گے جس کے پیغام رسانی کا دعویٰ محمد ﷺ کرتے ہیں۔ یا ’’الٰہ‘‘ بمعنی مالک ہے تو ہم اس کا مال ہوں گے غلام ہوں گے۔ یا بمعنی معبود ہے تو ہم اس کی تعظیم واطاعت کے پابند ہوں گے۔ اگر ہم نے یہاں یہ وعدہ کیا تو محمد ﷺ کے اللہ کی تو نہ ہمیں جگہ معلوم ہے نہ ان کی ذات سے واقف ہیں، نہ براہ راست ہماری نشست اور گفتگو ان سے ہو سکتی ہے تو یہی ہوگا کہ محمد ﷺ ہمیں انفرادی اور اجتماعی زندگی کے بارے میں ہدایات دے گا۔ نسبت اللہ سے کرے گا اور ہم ان ہدایات کے مطابق عمل کرنے کے پابند ہوں گے گویا عملاً ہم سب محمد ﷺ کے محکوم و غلام ہوں گے اور اس کی تعظیم و اطاعت کے پابند ہوں گے۔ لہٰذا نام خدا پرستی کا ہوگا اور کام حاکمیت اور بالادستی کا لیا جائے گا، اس لیے سرداران قریش کہنے لگے (ص : ۶) یعنی اب تو بالکل واضح ہوا کہ اس پورے جدوجہد سے مقصد اقتدار و بالادستی قائم کرنا ہے جو ہم پہلے کہا کرتے تھے کہ یہ شخص اقتدار کا طالب ہے۔ آج بھی اگر دین و شریعت کے حوالے سے اقتدار و حاکمیت پر انگلی نہ اٹھائی جائے تو ذاتی معاملات میں شرعی ہدایات کی پابندی کرنے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔ البتہ جس دعوت میں شرعی اصول ہدایات کی روشنی میں اقتدار و حاکمیت پر حرف گیری ہو تو مستبد قوتیں سٹپٹا جاتی ہیں تو جب دعوت علی منہاج النبوت ہو تو اس میں ذاتی زندگی کی اصلاح اور صالح جامعہ کی تشکیل دونوں کے لیے دعوت و عمل ساتھ ساتھ جاری رہے گا اور وہی قوتیں ابتدائی طور پر مقابلے میں رہیں گی جو انبیاء کے مقابلے میں رہی ہیں۔ اگرچہ بعد میں مقابل قوتیں بھی نبی ﷺ کا ساتھ دینے لگیں۔ سورہ بقرہ کے ابتداء کے دو رکوع میں نبی ﷺ کی دعوت کے مخاطبین کی تقسیم بیان کی گئی ہے کہ مخاطبین میں کچھ وہ لوگ ہوں گے جن کو آپ کی ذات پر مکمل اعتماد ہوگا اور آپ کی دعوت کو دل کی گہرائیوں سے تسلیم کریں گے۔ یہ ہیں مومن یعنی کامل اعتماد کرنے والے۔ دوسرا وہ طبقہ ہوگا جو کھل کر آپ کی ذات پر اعتماد کریں گے اور نہ ہی آپ کی دعوت کو تسلیم کریں گے۔ یہ ہیں کافر یعنی نہ ماننے والے۔ اور ایک تیسرا طبقہ ایسا ہوگا کہ خود غرض اور مفاد پرست ہوگا۔ اس کو منافق کہتے ہیں یعنی ان کی کسی بات پر کوئی اعتماد نہیں ہوگا۔ سورہ بقرہ کی آیت ۲۱ سے ۲۹ تک نزول وحی کا مقصد بیان کیا گیا ہے کہ نزول وحی کا مقصد انسانی فرد اور جامعہ کی حفاظت اور اس مقصد کے حصول کا راستہ عبدیت یعنی اللہ و رسول کی کامل تعظیم اور ان کے ہدایات کی کامل اطاعت واحد راستہ ہے۔ انسانی فرد اور جامعہ کی ہر قسم کے مصائب مشکلات اور نقصانات و پریشانیوں سے حفاظت کا۔
سورہ بقرہ کی آیت ۳۰ میں انسانی تخلیق کی حکمت افادیت اور مقصد بتایا گیا ہے کہ خلافت ہے۔ ابن عباسؓ کی تفسیری روایت کے مطابق خلیفہ کا معنی خلیفۃ اللہ ہے۔ ملائکہ کے استفسار سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ نئی مخلوق اللہ کا خلیفہ ہوگی تو مخلوق میں تعدد ہوگا اور اللہ کی صفات میں نمایاں صفات دو ہیں۔ ۱۔ اختیار ۲۔ اقتدار۔ تو گویا خلافت کی بنیاد پر ہر فرد بشر اختیار کا مالک بھی ہوگا اور اقتدار کی صلاحیت بھی رکھتا ہوگا تو ایسی صورت میں حصول اقتدار کے ریس میں تصادم ہوگا۔ آبادیاں اجڑیں گی اور خون بہے گا۔
سابقہ بحث سے شاید یہ بات واضح ہو چکی ہو کہ انسانی تخلیق کا مقصد خلافت لینا اور سیاسی عمل کو اولیت دینا اور ذاتی اصلاح سے صرف نظر کرنا۔ یا انسانی تخلیق کا مقصد عبدیت لینا اور صرف ذاتی اصلاح پر نظر مرکوز کرنا اور سیاسی عمل یعنی اصلاح جامعہ کے دعوت و عمل سے صرف نظر کرنا دونوں رائے اشتباہات سے خالی نہیں ہیں۔
خلافت اور عبدیت لغوی مفاہیم کے اعتبار سے اگرچہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ لیکن عملی تطبیق اور خارجی مصداق کے اعتبار سے ایک ہیں۔ ذاتی زندگی میں انسان کے پاس دو چیزوں کا نقد سرمایہ ہے۔ ایک جان، یعنی سر سے لیکر پاؤں تک انسانی صلاحیتیں مثلاً دل و دماغ سے سوچتا او رمنصوبہ بندی کرتا ہے۔ کانوں سے سنتا، آنکھوں سے دیکھتا، زبان سے بولتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور دوسری چیز مالی وسائل ہیں۔ ان دونوں کو انسان اپنی تہذیبی، ثقافتی، معاشرتی، معاشی اور تمدنی میدانوں میں استعمال کرتا ہے اور اس استعمال کے بدلے میں کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ جن چیزوں کو انسان حاصل کرنا چاہتا ہے ان کے تعین کے لئے انسان کے پاس دو ذریعے ہیں۔ ایک نفس جس کی چاہت اور انتخاب کا تعلق ظاہر اور مادی اور دنیاوی مفادات، خواہشات، لذائذ سے ہے۔
اور دوسرا عقل: جس کے انتخاب اور خواہش اور طلب کا مدار دلیل حجت، برہان اور بصیرت پر ہے۔ اب اگر انسان اپنی شخصی زندگی میں اللہ کا خلیفہ ہوگا۔ تو وہ جان اور مال کے سرمائے کا نفس سے دفاع کرے گا بچائے گا، جہاد مع النفس کرے گا۔ اور عقل ودلیل کے راستے سے وحی کی روشنی میں اپنی جان اور مال پر مسلط اور حاکم کرے گا۔ اس طرح زندگی میں انسان خلیفہ ہے۔ اس اعتبار سے ہے کہ اس نے اپنے اندر اللہ کی حاکمیت قائم کی ہے، اپنی جان اور مال کو نفس کے تسلط سے آزاد کیا ہے جو جہاد ہے۔ اور دلیل کے راستے سے وحی کی روشنی اور حدود اربعہ میں عقل کو اپنی جان اور مال پر مسلط کر کے حاکم کیا ہے جو خلافت ہے، اور عبد ہے۔ اس لئے کہ وہ اپنی جان اور مال کو اللہ کی تعظیم و اطاعت میں اور نبی ﷺ کی سیرت اور سنت کے مطابق استعمال کرتا ہے۔ اور عبدیت اسی تعظیم و اطاعت کا نام ہے۔ لہٰذا ایسی صورت میں انسان اپنی ذاتی زندگی میں خلیفۃ اللہ بھی ہے اور عبداللہ بھی۔ لیکن عبدیت کا پہلو نمایاں ہے سب دنیا کو نظر آتا ہے کہ یہ شخص اپنی جان اور مال کو اللہ اور رسول کی اطاعت و تعظیم میں استعمال کرتا ہے۔ لیکن ذات پر اس کی حاکمیت کا پہلو نظر نہیں آتا۔ اس لئے انسان کی ذاتی زندگی کے میدان میں خلافت سے بھی تعبیر عبدیت سے کی جائے گی۔ اور جب یہی شخص دعوت کے میدان میں امامت کے مرحلے سے گزر کر عام پبلک کے اعتماد اور رضامندی کے نتیجے میں خلافت کے منصب پر فائز ہوتا ہے اور ایک صالح جامعہ تشکیل دیتا ہے، تو وہ اس جامعہ سے دفاع بھی کرتا ہے، جو جہاد ہے۔ اور اس پر اللہ کی حاکمیت بھی قائم کرتا ہے، جو خلافت ہے۔ اور جامعہ کی تمام صلاحیتوں اور وسائل کو اللہ اور رسول کی اطاعت میں استعمال کرتا ہے، جو عبدیت ہے۔ لیکن جامعہ پر حاکمیت کی صورت میں خلافت کا پہلو (یعنی حاکمیت) نمایاں ہے۔ اور اس جامعہ کا، جو ایک اعتباری فرد ہے، اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو اللہ اور رسول کی تعظیم و اطاعت میں استعمال کرنے کا عمل ہے جو عبدیت ہے اتنا ظاہر نہیں۔ لہٰذا اس مرحلہ میں عبدیت سے تعبیر خلافت سے کی جائے گی۔ گویا کہ ذاتی اور شخصی زندگی میں خلافت سے تعبیر عبدیت سے کی جائے گی اور اجتماعی زندگی میں عبدیت سے تعبیر خلافت سے کی جائے گی۔ اگرچہ دونوں مراحل میں دونوں صفات موجود ہیں۔
خلاصۂ کلام یہ کہ
۱۔ انسانی تخلیق کی حکمت، افادیت اور مقصد خلافت ہے۔
۲۔ محفوظ راستہ شخصی اور اجتماعی زندگی کا اللہ کی عبدیت اور رسول کی اطاعت ہے۔ جو ابتداء میں حصول خلافت اور بعد میں بقائے خلافت کا ذریعہ ہے۔
۳۔ بنیادی فریضہ جہاد ہے۔ شخصی زندگی میں جان اور مال کو نفس کے تسلط سے آزاد کرانا اور دلیل کے راستے سے وحی کی روشنی میں جان اور مال پر عقل کو حاکم اور مسلط کرانا۔ اور اجتماعی زندگی میں اس صالح جامعہ کو ضرر رساں اور محارب قوتوں سے بچانا اور اللہ اور رسول کی اطاعت میں چلا کر الٰہی خلافت قائم کرنا۔
۴۔ بنیادی ضرورت جماعت ہے۔ جس کی ابتداء نصب امام سے ہوتی ہے

براہ کرم ذہنی غلامی سے نکلیں اور خود کو درست کریں۔ملاوٹ،جھوٹ، دھوکہ جیسی چیزیں ہمارا ورثہ نہیں ہیں۔یہ معصوم صورت عیاروں کی چالیں ہیں جو دنیا بھر کو رنگی برنگی مصنوعات کے نام پر مضر صحت کیمیکل بیچنے میں مصروف ہیں .

💕مسلمان بے چارہ زیادہ سے زیادہ کیا ملاوٹ کرلے گا۔۔ مرچ میں برادہ پیس لے گا۔۔ دودھ میں پانی ڈال لے گا۔۔ چائے کی پتی میں باتھو پیس لے گا👇

💕برصغیر کے لوگ ملاوٹ کے مفہوم سے ناآشنا تھے۔ گھروں میں دیسی گھی، گڑ، شکر، لسی، دودھ، مکھن، دیسی مرغیاں، دیسی انڈے، بکرے، دنبے وغیرہ کا گوشت استعمال کیا جاتا تھا۔۔ نہانے کے لیے کالا صابن ہوتا تھا۔۔ برتن دھونے کے لیے مٹی، ریت اور کالا صابن استعمال ہوتا تھا۔۔
یہ برصغیر کا حقیقی چہرہ تھا۔۔ یہی یہاں کا معیار تھا اور یہی رواج بھی۔۔

💕پھر بھوکے ننگے، لالچی، چور ذہن انگریز میدان میں آئے۔ تب “مصنوعات” کا رواج نکلا. “مصنوعات” کیا تھیں۔”مصنوعی” چیزیں. انسانی تخلیق۔ مقصد صرف پیسہ کمانا تھا۔۔

💕جو آج پوری دنیا کو اخلاقیات کا درس دیتے ہیں ان عالمی جعل سازوں نے “ولایتی” کونسیپٹ متعارف کرایا۔۔
بالکل ایسے جیسے آج ہر دو نمبر اور گھٹیا پروڈکٹ کو “چائنہ” کہہ لیا جاتا ہے۔۔
دیسی گھی کے مقابلے میں ولائتی گھی آگیا۔۔ کولیسٹرول، بلڈ پریشر اور ہارٹ اٹیک کا تحفہ انہی انگریزوں کی کرم نوازی ہے۔۔
💕دیسی مشروبات (ستو، لسی، دودھ) وغیرہ کے مقابلے میں ولائتی کیمیکل ملے مشروبات (کوکا کولا، سیون اپ) وغیرہ انہی انگریزوں کا تحفہ ہےجو ملاوٹ نہیں کرتے۔

💕گڑ ،شکر کے مقابلے میں گنے کے رس میں مضر صحت کیمیکل کی ملاوٹ سے چینی بنا کرعوام کواس طرف لگا دیا گیا۔پوری قوم کو ذیابیطس مبارک ہو انگریز ملاوٹ نہیں کرتا

💕دودھ خالص ہوتا تھا اور دودھ سے بنی تمام اشیاء بھی۔۔ نیسلے کمپنی (ان کی ہے جو ملاوٹ نہیں کرتے) نے جعلی دودھ متعارف کرایا۔۔ الحمد للہ کیمیکل ملا دودھ ساری دنیا کو بیچنے کا سہرا اسی کمپنی کے سر ہے جو ملاوٹ نہیں کرتی۔ سچ کہوں تو بہت ساری پروڈکٹ جن کو دودھ کہا جاتا ہے ان میں دودھ نام کی سرے سے کوئی چیز نہیں ہوتی۔ شکر ہے عدالت نے پابندی لگائی اور اب ٹی وائٹنر وغیرہ لکھنے لگے ہیں۔

💕حضرات ذی وقار۔۔ انگریز مضر صحت کیمیکلز سے کیا کیا بنا کر بیچ رہا ہے زرا ایک نظر ادھر کیجیے۔ کیمکل زدہ فارمی مرغیاں، دودھ، مکھن، گھی، آئس کریم، خشک دودھ، کیچپ، چینی، رنگ برنگی فوڈ آئٹمز، مشروبات، ڈبے والے جوس، کاسمیٹکس، میڈیسن، پھلوں کو پکانے کیلیے رنگ برنگے کمیکل۔۔۔ اور جانے کتنی لمبی لسٹ ہے جس کا احاطہ کرنا شاید بس سے باہر ہے۔۔لیکن ان پر کوئی انگلی نہیں اٹھاتا۔۔ یعنی حد ہے ذہنی غلامی کی۔۔

💕مسلمان بے چارہ زیادہ سے زیادہ کیا ملاوٹ کرلے گا۔۔ مرچ میں برادہ پیس لے گا۔۔ دودھ میں پانی ڈال لے گا۔۔ چائے کی پتی میں باتھو پیس لے گا۔۔

💕اصل چور تو یہ ہیں جو سرمائے کی آڑ میں شیمپو، صرف، صابن سے لے کر روزمرہ استعمال کی ہر چیز میں مضر صحت کیمیکلز کا دھڑا دھڑ استعمال کر رہے ہیں اور الزام جب بھی لگتا ہے بے چارے سازش کا شکار مسلمانوں پر لگتا ہے جن کی بے ایمانی بھی بڑی محدود سی ہے۔۔

میں ڈاکٹر فاطمہ ہوں کل میں ڈیوٹی پر معمور تھی کہ ایک خودکشی کا ایمر جنسی کیس آ گیا خود کشی کرنے والی لڑکی کا نام منتہیٰ تھا اور میں نے اپنے آٹھ سالہ کیرئیر اور گزری زندگی میں پہلی بار اتنی خوبصورت لڑکی دیکھی تھی ۔۔۔۔


مریضہ حالت بیہوشی میں تھی اس کو اٹھا کر ہسپتال پہنچانے والے اسکے والدین تھے والدین بھی ماشاءاللہ بہترین پرسنیلٹی کے مالک تھے مگر اس وقت بیٹی کے عمل نے ان کی حالت کو قابل رحم بنا رکھا تھا پتہ نہیں کیوں مجھے لڑکی پر پیار اور اس کے والدین کی بے بسی دیکھ کر بے انتہا کا ترس آ رہا تھا ۔۔۔۔۔
لڑکی کو آپریشن تھیٹر لایا گیا آپریٹ کے بعد اس کو وارڈ میں منتقل کر دیا گیا تھا اور والدین کو بتا دیا گیا تھا کہ لڑکی کی حالت خطرے سے باہر ہے لڑکی کی خیریت کا پتہ چلتے لڑکی کا والد غرباء میں کچھ تقسیم کرنے کے لئیے نکل گیا تو لڑکی کی ماں کو میں نے اپنے آفس میں بلوا لیا ۔۔۔۔۔
مختصراً لڑکی کی ماں نے جو کہانی سنائی وہ کچھ یوں تھی

لڑکی کا نام منتہیٰ ہے اور منتہیٰ نے ٹیکسٹائل انجینیرنگ کر رکھی ہے پڑھائی کے بعد تمام والدین کی طرح منتہیٰ کے والدین کی بھی خواہش تھی کہ وہ اپنے گھر کی ہو جائے اس لئیے انہوں نے منتہیٰ سے اس کی پسند کے متعلق پوچھا تو منتہیٰ نے مشرقی لڑکیوں کی طرح فیصلے کا اختیار ماں باپ کو دے دیا والدین نے منتہیٰ کو کے رشتے کی بات چلائی تو منتہیٰ کو دیکھنے ایک فیملی آئی لوازمات اور خدمات سے مستفید ہونے کے بعد عورتیں منتہیٰ کے کمرے میں آئیں کسی نے منتہیٰ سے چل کر دکھانے کی فرمائش کی کسی نے بولنے اور کسی نے منتہیٰ کے ہاتھ کی چائے پینے کی فرمائش کی اس کے بعد اجازت لے کر چلے گئیے اور چند دن بعد بنا کوئی بات بتائے رشتے سے انکار کر دیا ۔۔۔۔۔۔

منتہیٰ کے لئیے پہلی بار تھی جب وہ ریجیکٹ ہوئی مگر ماں باپ کی تسلی نے منتہیٰ کو حوصلہ دیا اور ایک بار پھر منتہیٰ کو دیکھنے کے لئیے فیملی آئی ۔۔۔۔
انہوں نے بھی کھانے سے فارغ ہونے کے بعد منتہیٰ کے ہاتھ سے۔ چائے پینے کی فرمائش کی اور چائے کے بعد اجازت چاہی تین دن انتظار میں رکھنے کے بعد یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا لڑکی کو مہمان نوازی نہیں آتی کیونکہ اس نے لڑکے کی ماں کو ٹیبل سے اٹھا کر ہاتھ میں چائے پیش نہیں کی بلکہ عام مہمانوں کی طرح ٹیبل پر رکھ دی ۔۔۔۔

اس انکار پر منتہیٰ کے ساتھ ساتھ اس مے والدین بھی اندر ٹوٹ پھوٹ گئیے مگر اللہ کی رضا سمجھ کر صبر کر رہے پھر ایک نئی فیملی آئی ۔۔۔
اس فیملی کی خواتین کے بیٹھتے ہی منتہیٰ نے ان کے جوتے تک اپنے ہاتھوں سے اتارے وہیں بیٹھے بیٹھے ہاتھ دھلوائے اور پھر چائے پیش کی ۔۔۔۔

اس فیملی نے ہفتے بعد یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ آپ کی بیٹی پر جنات کا سایہ ہے ورنہ کوئی میزبان پہلی بار گھر آئے مہمان کی اتنی خدمت کہاں کرتا ہے

پچھلے آٹھ سالوں میں سو سے زائد لوگ رشتے دیکھنے آئے مگر کوئی نہ کوئی عیب نکال کر چلے گئے کل ایک فیملی آئی انہوں نے لڑکی کو باقی ہر لحاظ سے ٹھیک قرار دیا مگر یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ منتہیٰ کی عمر زیادہ ہو گئی ہے اور احسان جتاتے ہوئے کہا کہ اگر آپ زیادہ مجبور ہیں تو ہمارا ایک اڑتالیس سالہ بیٹا جس کی اپنی دوکان ہے اس کے لئیے منتہیٰ قبول کر لیتے ہیں ۔۔۔۔۔

اتنا کہتے ہوئے منتہیٰ کی ماں سسکیاں لے کر رونے لگی اور کہا آپ بھی تو ماں ہیں سوچیں ماں جتنی بھی مجبور ہو غیروں کے سامنے کیسے کہہ سکتی ہے ؟

اور میری بیٹی کل سارا دن میرے سینے سے لگ کر روتی رہی ہے کہتی رہی ہے ان لوگوں کے معیار تک آتے آتے میری عمر زیادہ ہو گئی ہے ماں اور پھر نہ جانے کب اس نے دنیا کو الوداع کہنے کا فیصلہ کر لیا کیوں کہ وہ کہتی تھی میرا منحوس سایا میری بہن کو بھی والدین کی دہلیز پر بوڑھا کر دے گا ۔۔۔۔۔

میں (ڈاکٹر) نے منتہیٰ کی والدہ کو پانی پلایا اتنے میں اس کا والد اور پیچھے وارڈ بوائے داخل ہوا آ کر بتایا کہ منتہیٰ ہوش میں آ گئی ہے ۔۔۔۔۔۔

منتہیٰ کی ماں بجلی کی تیزی سے وارڈ میں پہنچی منتہیٰ کا سر اٹھا کر سینے لگا کر میں(ڈاکٹر) اور اور منتہیٰ کا والد ایک ساتھ کمرے میں داخل ہوئے منتہیٰ ماں کو چھوڑ کر باپ کے گلے لگی اور سسکتے ہوئے کہا پاپا بیٹیاں بوجھ ہوتی ہیں پاپا آپ نے کیوں بچایا مجھے ؟
مجھے مرنے دیتے میرا منحوس سایا اس گھر سے نکلے گا تو گڑیا کی شادی ہو گی نہیں تو وہ بھی آپ کی دہلیز پر پڑھی پڑھی بوڑھی ہو جائے گی ۔۔۔۔۔

منتہیٰ کا باپ چپ چاپ آنسو بہا رہا تھا جب میں نے حالات آؤٹ آف کنٹرول ہوتے دیکھے تو منتہیٰ کو سکون اور انجیکشن دے دیا اور منتہیٰ کے والدین کو لے کر آفس میں آگئی میں نے منتہیٰ اور اس کی چھوٹی بہن کو اپنے دونوں بھائیوں کے لئیے مانگ لیا اور منتہیٰ کے والدین کی آنکھیں اچانک برسنے لگیں مگر اس بار آنسو خوشی کے تھے ۔۔۔۔ ۔

میرے دونوں بھائی ڈاکٹر ہیں میں نے ان کو اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور وہ قبول کر چکے ہیں ۔۔۔۔

آخر میں آپ لوگوں سے التجا کرتی ہوں آپ شادی عورت سے کر رہے ہوتے ہیں حور سے نہیں خدارا کسی کی بیٹی کو ریجیکٹ کرنے سے پہلے اس کی جگہ اپنی بیٹی رکھ کر سوچیں میں ڈاکٹر ہونے کی حثیت سے کہتی ہوں اگر عیب کی بنا ریجیکٹ کرنا ہو لڑکیوں سے دوگنی تعداد میں لڑکے ریجیکٹ ہوں مجھ سے دنیا کے کسی بھی فورم پر کوئی بھی بندہ بحث کر لے میں ثابت کر دوں گی مرد میں عیب عورت سے زیادہ ہیں میں ہاتھ جوڑ کر خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واسطہ دے کر التجا کرتی کسی کو بلا وجہ عیب زدہ کہہ کر ریجیکٹ نہ کرو آپ اللہ کی مخلوق کے عیبوں پر پردہ ڈالیں اللہ آپ کے عیبوں پر پردہ ڈالے گا ۔۔۔۔
آپ کے نکالے عیب اور انکار لڑکیوں کو قبر میں دھکیل دیتے
ہیں۔

شکوہ تو جائز ہے مگر کیا کیجئے کہ شریف زادیوں کے دکھ لکھے نہیں جا سکتے کیونکہ ان میں آنسو تو ہوتے ہیں شہوانی خیالات کا تڑکا نہیں۔ اس نامعلوم مصنف یا مصنفہ کے بہت داد و تحسین۔

منٹو صاحب نے اس عورت کے بارے میں بھی نجانے کیوں نہیں لکھا. جس کا دل محبوب کے قدموں میں لپٹنے کو کرتا ہے, اور تمام عمر اسکے سنگ گزارنے کی آرزو ہے. لیکن وہ تمام عمر نہ سہی ایک رات بھی اپنے من چاہے محبوب کے ساتھ نہیں گزار سکتی کیونکہ اسے اپنی پارسائی کا بوجھ اٹھانا ہے
منٹو صاحب نے اس عورت کا دکھ کیوں نہیں لکھا جس کا شوہر گھر میں اور گھر سے باہر اپنی من چاہی ہر عورت سے جب چاہے مل سکتا ہے لیکن وہ عورت مستقبل کے انجان خدشوں سے ڈرنے کے سوا اور کچھ نہیں کر پاتی. اپنے شوہر کی طرح اپنے من چاہے ساتھی کے ساتھ کچھ لمحات تک نہیں گزار سکتی
کیونکہ اسے پارسائی کا بوجھ اٹھانا ہے.
منٹو صاحب شریف زادیوں کے دکھوں سے کیونکر انجان رہے…
پارسائی کا یہ بوجھ بھی بڑا ظالم ہے جس میں عورت کھل کر سانس بھی نہیں لے سکتی. منٹو صاحب نے اس بہن کو اپنے افسانے کی ہیروئین نہیں بنایا. جس کے بھائی تو تمام دنیا کو فتح کرتے پھرتے ہیں لیکن اسے چاردیواری پار کرنے کی بھی اجازت نہیں اور وہ بھائیوں کی غیر موجودگی میں انکی رضا سے بندھی پارسائی کا بوجھ اٹھا رہی ہے.
آج اگر منٹو صاحب زندہ ہوتے تو میں ان سے ضرور پوچھتا کہ وہ عورت جو دن رات اپنے شوہر کی , بچوں کی , سسرالی رشتے داروں کی خدمت میں جتی ہوئی ہے اور جسے جواب میں طعنے , مار پیٹ , گالی گلوچ کے علاوہ کچھ نہیں ملتا پھر بھی وہ اف تک نہیں کرتی وہ ان کے افسانوں کی ہیروئین کیوں نہیں ہو سکتیں..؟
وہ ماں ان کے افسانوں کی ہیروئین کیوں نہیں ہو سکتی جو بھری جوانی میں بیوہ ہو گئی اور پھر اس نے ساری جوانی کی ان گنت راتیں جاگ کر اور بستر پہ کروٹیں بدلتے گزاریں لیکن پھر بھی پارسائی کا بوجھ اٹھائے رکھا. تاکہ کل کو اس کے بچوں کو کوئی اس کے نام کا طعنہ نہ دے
شاید منٹو صاحب کو یہ معلوم نہیں تھا کہ شریف زادیوں کے دکھ اور اندیشے طوائف زادیوں سے بھی بڑے ہوتے ہیں.۔

تحریر کا مصنف نا معلوم

نظر کو نظر نے نظر بھر کے دیکھانظر کو نظر کی نظر لگ گئی ہے،جگر پر جگر نے جگر چوٹ ماریجگر کا جگر نے جگر چیر ڈالا،بشر نے بشر کو بشر ہی نہ سمجھابشر نے بشر میں بشر مار ڈالا،خوشی کب خوشی تھی،خوشی تھی دکھاواخوشی کی خوشی بھی خوشی اب نہیں ہے،سدا سے صدا پر صدا دے رہا ہوںصدا یہ سدا سے صدا بن سکی نہ،قمر یہ کمر اُس قمر سے ہے برترقمر اِس کمر پر قمر وہ فدا ہے،مریدِ ساغر

بےشک مجرم لوگ ہمیشہ دوزخ کے عزاب میں رہیں گے.وہ ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں مایوس پڑے رہیں گے.اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی ظالم تھے. اور وہ پکاریں گے کہ اے مالک،تمہارا رب ہمارا خاتمہ ہی کر دے.فرشتہ کہے گا تم کو اسی طرح پڑے رہنا ہے( 74۔77 الزخرف

امید ہمیشہ تکلیف کے احساس کو کم کر دیتی ہے. آدمی کسی تکلیف میں مبتلا ہو اور اسی کے ساتھ اس کو یہ امید ہو کہ یہ تکلیف ایک روز ختم ہو جائے گی تو آدمی کے اندر اس کو سہنے کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے.
مگر جہنم کی تکلیف وہ تکلیف ہے جس سے نکلنے کی کوئی امید انسان کے لئے نہ ہو گی.
جہنم میں فرشتوں کو مدد کے لئے پکارنا جہنم والوں کی بےبسی کا بے تابانہ اظہار ہو گا… ورنہ پکارنے والا خود جانتا ہو گا کہ خدا کا فیصلہ آخری طور پر ہو چکا ہے. اب وہ کسی طرح ٹلنے والا نہیں.
جہنم میں کسی کا داخل ہونا سراسر اپنی کوتاہی کا نتیجہ ہو گا. انسان کو اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ درجہ کی سمجھ دی اس کے سامنے حق کی راہیں کھولیں، مگر انسان نے جانتے بوجھتے حق کو نظرانداز کیا.

علامہ اقبال قیام پاکستان سے نو سال پہلے وفات پا گئے تھے اور اس سے پہلے جناح لیگ چھوڑ کر سر شفیع لیگ جوائن کر لیا تھا اقبال مرتے دم تک سر شفیع لیگ سے منسلک رہے باقی کہانی کے لئے نیچے پیر پگاڑا کے انٹرویو کی طرف رجوع فرمائے۔

پاکستان کے ممتاز سیاستدان اور متحدہ مسلم لیگ کے سربراہ مردان علی شاہ پیر پگاڑا مرحوم کا ایک یادگار انٹرویو روزنامہ جنگ میں 16 جولائی 2000 کو شائع ہوا۔ اس انٹرویو کے پینل میں جناب سہیل وڑائچ، جناب زاہد حسین اور جناب عارف الحق عارف شامل تھے۔ ذیل میں تاریخی دلچسپی کے لئے اس انٹرویو کے کچھ منتخب حصے پیش کئے جا رہے ہیں۔

سوال: پیر صاحب! آپ متحدہ مسلم لیگ کے صدر رہے ہیں، اس حوالے سے گفتگو کا آغاز تحریک پاکستان سے کرتے ہیں؟

جواب: اس حوالے سے پہلے یہ واقعہ سن لیں پاکستان بننے سے پہلے تین جگہ پر ہندو مسلم فسادات ہوئے ان میں سے ایک علی گڑھ میں ہوا۔ یہ 1945 کا واقعہ ہے کہ میں علی گڑھ کی نئی بستی میں بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں علم ہوا کہ ایک سندھی قتل ہوگیا، ہم وہاں گئے کہ ہم سندھی کی لاش کو سنبھالیں۔ ہم نے پوچھا کہ کیا ہوا تو پتا چلا کہ یہاں پتھراؤ ہوا ہے۔ تھوڑی دیر میں ڈی سی صاحب اور ایس پی صاحب آگئے۔ یہ ایس پی ٹیکسن صاحب تھے۔ ان کے بارے میں کسی نے بتایا کہ یہ وہ ایس پی ہیں جو انگلینڈ سے اپنے دوست کی بیوی ورغلا کر لائے ہیں۔ ہمارا خیال تھا کہ اچھے خون والا بندہ ایسا کام نہیں کر سکتا۔ تو خیر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے وہاں ایس پی نے خود ہی توڑ پھوڑ شروع کر دی اور اسی دوران بازار میں آگ لگ گئی اور فساد شروع ہوگیا تو اس واقعہ کا تو میں خود عینی شاہد ہوں کہ کس طرح ایک انگریز نے ایک سندھی کی بازار میں ذاتی لڑائی کو ہندو مسلم فساد بنا دیا۔ میں اس واقعے کا عینی شاہد ہوں اور یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ فساد پاکستان کے لئے نہیں تھا۔ یہ تو کروایا گیا تھا۔

سوال: پیر صاحب اس واقعہ سے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے سب کچھ انگریزوں نے کیا؟

جواب: دیکھو بھئی اگر تو لوگوں کو خوش کرنا ہے تو اور بات ہے اور اگر سچ سننا ہے تو میری معلومات یہی ہیں کہ برطانوی حکومت ہندوستان میں ایک مسلم اسٹیٹ بنانے کا فیصلہ بہت پہلے کر چکی تھی۔ یہ فیصلہ قرارداد پاکستان منظور ہونے سے بہت پہلے ہوچکا تھا۔ ولی خان نے جب اس بارے میں بیان دیا تو جنرل ضیا الحق نے انہیں اس معاملے پر گفتگو کی دعوت دی۔ ولی خان نے جواباً ایک فوٹو سٹیٹ کاپی انہیں بھیجی جس میں واضح طور پر یہ لکھا تھا کہ مسلم اسٹیٹ بنانے کا فیصلہ 1940 سے پہلے ہوچکا تھا۔ اس کے بعد ضیاالحق خاموش ہوگئے۔ میں نے لندن جا کر تو تحقیق نہیں کی لیکن میری معلومات یہی ہیں۔

سوال: پیر صاحب کیا آپ کو احساس ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں یعنی پاکستان انگریزوں نے بنایا تھا؟

جواب: دیکھو بھئی سچ سننا ہے تو وہ تو یہی ہے وگرنہ میں بھی آپ کو کوئی کہانی سنا دیتا ہوں۔

سوال: اس کا کوئی ثبوت ہے؟

جواب: دیکھو بھئی برطانوی وزیراعظم چرچل کی پنجاب کے اس وقت کے وزیراعظم سر سکندر حیات سے قاہرہ میں ملاقات ہوئی تو چرچل نے کہا کہ مسلمانوں نے سلطنت برطانیہ کے لئے جو قربانیاں دی ہیں ان کی بلڈ منی کے طور پر انہیں الگ ریاست دی جائے گی۔ میں نے یہ بات سر سکندر حیات کے بیٹے سردار شوکت حیات سے پوچھی تو انہوں نے تصدیق کی کہ چرچل نے سردار سکندر حیات سے یہ بات کی تھی۔

سوال: پیر صاحب! آپ مسلم لیگ کے صدر رہے ہیں، آپ بھی وہ بات کہہ رہے ہیں جو قوم پرست کہتے ہیں۔

جواب: دیکھو بھئی سچ سے تکلیف تو ہوتی ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ جس طرح دیگر بااثر لوگوں کو انگریز نے مسلم لیگ میں بھیجا تھا۔ علامہ اقبال بھی اسی طرح مسلم لیگ میں آئے تھے۔ آپ یہ بتائیں کہ علامہ اقبال کس کے کہنے پر قائداعظم کے پاس گئے تھے۔ دیکھو بھئی جتنے بھی بااثر لوگ تھے، وہ انگریزوں کے کہنے پر مسلم لیگ میں آئے تھے۔

سوال:تو کیا آپ دو قومی نظریے سے انکار کرتے ہیں۔

جواب: دیکھو بھئی ایک قوم ہندو تھی جو گؤ ماتا کو پوجتی تھی دوسری قوم مسلمان تھی جو گؤ ماتا کو کھاتی تھی تو دونوں قومیں تو الگ تھیں، البتہ پاکستان اسلام کے نام پر نہیں لبرل معاشرے کے قیام کے لئے بنا۔

سوال: تو کیا پاکستان بنانے میں مسلم لیگ کا کردار نہیں تھا؟

جواب: مسلم لیگ بااثر لوگوں کی جماعت تھی۔ یہ عوامی جماعت نہیں تھی کہ جس کے ووٹر ہوں، بااثر لوگوں کے ماننے والے اسے ووٹ دیتے تھے۔ مسلم لیگ اس وقت سے لے کر آج تک جماعت نہیں بن سکی، نہ یہ کبھی جماعت بن سکے گی۔ ملک میں اقتدار انگریز کے وفاداروں کے ہاتھ میں رہے، وہی پالیسی آج تک چل رہی ہے، کچھ بھی تو تبدیل نہیں ہوا”۔

اس انٹرویو کی اشاعت کے بعد جناب پیر پگاڑا پر روزنامہ نوائے وقت نے خوب لے دے کی۔ اسی دوران لاہور کے ایک اخبار نویس نے جب ان سے دریافت کیا کہ وہ اپنے اس بیان پر کیا اب بھی قائم ہیں کہ پاکستان انگریز نے بنایا تھا؟ تو پیر پگارا نے اپنے مخصوص انداز میں کہا:

’’اور کیا آپ کے باپ نے بنایا تھا؟‘‘