مغربی دنیا میں سے امیریکا کی مثال لے لیجیے ۔۔۔۔ملک میں خواندگی کی شرح 99 فیصد ہے۔93 فیصد والدین مڈل سکول میں سیکس ایجوکیشن کے حق میں ہیں۔96 فیصد والدین ہائی سکول کی سطح پر سیکس ایجوکیشن چاہتے ہیں۔ملک کی 26 ریاستوں کے سکولز میں مکمل سیکس ایجوکیشن فراہم کی جاتی ہے۔


البتہ 34 ریاستوں کے بعض سکولز میں جہاں “نا مکمل” سیکس ایجوکیشن دی جاتی ہے۔
ملک میں شادی کی کوئی پابندی نہیں، رضاکارانہ جنسی فعل ہر بالغ کا قانونی حق ہے۔
ملک میں طوائفوں کی تعداد ایک سے دو ملین تک ہے
ملک کی تمام ریاستوں میں پولیس پر 100 جبکہ جیلز اور کریکشن سنٹرز پر سالانہ 80 بلین ڈالرز خرچ کیے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
اس کے باوجود ۔۔۔۔۔۔۔۔
ملک میں ہر سال اوسطاً ایک لاکھ زنا بالجبر کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔
بیورو اَو جسٹس سٹیٹسٹکس کے مطابق رپورٹ ہونے والے کیسز کی شرح کل کیسز کا 38.4 فیصد ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہر ایک ہزار میں سے محض 384 کیسز رپورٹ ہونے کے باوجود ۔۔۔۔۔۔۔
پولیس محض 57 ملزمان کو گرفتار کر پاتی ہے یعنی صرف 5.7 فیصد
ان 5.7 فیصد گرفتار ملزمان میں سے محض 11 پر تفتیش کے بعد مقدمہ چلتا ہے یعنی صرف 1.1 فیصد ملزم عدالت کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔
ان گیارہ میں سے اوسطاً 7 پر جرم ثابت ہوتا ہے اور انہیں سزا سنائی جاتی ہے یعنی 0.7 فیصد۔

اب آپ تسلی سے اپنے ملک، قانون، سماج ۔۔۔۔۔۔۔۔ جسے چاہیں گالی دے سکتے ہیں !

پس نوشت: اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ صرف سیکس ایجوکیشن، فری سیکس کے مواقع سے ریپ کم نہیں ہو گا ۔۔۔۔۔۔ تعلیم، شعور کے ساتھ ساتھ قانونی اور عدالتی اصلاحات اور سب سے بڑھ کر عبرت ناک سزا کا نٖفاذ ضروری ہے۔

Via: jean sartre

Leave a comment