علامہ اقبال قیام پاکستان سے نو سال پہلے وفات پا گئے تھے اور اس سے پہلے جناح لیگ چھوڑ کر سر شفیع لیگ جوائن کر لیا تھا اقبال مرتے دم تک سر شفیع لیگ سے منسلک رہے باقی کہانی کے لئے نیچے پیر پگاڑا کے انٹرویو کی طرف رجوع فرمائے۔

پاکستان کے ممتاز سیاستدان اور متحدہ مسلم لیگ کے سربراہ مردان علی شاہ پیر پگاڑا مرحوم کا ایک یادگار انٹرویو روزنامہ جنگ میں 16 جولائی 2000 کو شائع ہوا۔ اس انٹرویو کے پینل میں جناب سہیل وڑائچ، جناب زاہد حسین اور جناب عارف الحق عارف شامل تھے۔ ذیل میں تاریخی دلچسپی کے لئے اس انٹرویو کے کچھ منتخب حصے پیش کئے جا رہے ہیں۔

سوال: پیر صاحب! آپ متحدہ مسلم لیگ کے صدر رہے ہیں، اس حوالے سے گفتگو کا آغاز تحریک پاکستان سے کرتے ہیں؟

جواب: اس حوالے سے پہلے یہ واقعہ سن لیں پاکستان بننے سے پہلے تین جگہ پر ہندو مسلم فسادات ہوئے ان میں سے ایک علی گڑھ میں ہوا۔ یہ 1945 کا واقعہ ہے کہ میں علی گڑھ کی نئی بستی میں بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں علم ہوا کہ ایک سندھی قتل ہوگیا، ہم وہاں گئے کہ ہم سندھی کی لاش کو سنبھالیں۔ ہم نے پوچھا کہ کیا ہوا تو پتا چلا کہ یہاں پتھراؤ ہوا ہے۔ تھوڑی دیر میں ڈی سی صاحب اور ایس پی صاحب آگئے۔ یہ ایس پی ٹیکسن صاحب تھے۔ ان کے بارے میں کسی نے بتایا کہ یہ وہ ایس پی ہیں جو انگلینڈ سے اپنے دوست کی بیوی ورغلا کر لائے ہیں۔ ہمارا خیال تھا کہ اچھے خون والا بندہ ایسا کام نہیں کر سکتا۔ تو خیر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے وہاں ایس پی نے خود ہی توڑ پھوڑ شروع کر دی اور اسی دوران بازار میں آگ لگ گئی اور فساد شروع ہوگیا تو اس واقعہ کا تو میں خود عینی شاہد ہوں کہ کس طرح ایک انگریز نے ایک سندھی کی بازار میں ذاتی لڑائی کو ہندو مسلم فساد بنا دیا۔ میں اس واقعے کا عینی شاہد ہوں اور یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ فساد پاکستان کے لئے نہیں تھا۔ یہ تو کروایا گیا تھا۔

سوال: پیر صاحب اس واقعہ سے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے سب کچھ انگریزوں نے کیا؟

جواب: دیکھو بھئی اگر تو لوگوں کو خوش کرنا ہے تو اور بات ہے اور اگر سچ سننا ہے تو میری معلومات یہی ہیں کہ برطانوی حکومت ہندوستان میں ایک مسلم اسٹیٹ بنانے کا فیصلہ بہت پہلے کر چکی تھی۔ یہ فیصلہ قرارداد پاکستان منظور ہونے سے بہت پہلے ہوچکا تھا۔ ولی خان نے جب اس بارے میں بیان دیا تو جنرل ضیا الحق نے انہیں اس معاملے پر گفتگو کی دعوت دی۔ ولی خان نے جواباً ایک فوٹو سٹیٹ کاپی انہیں بھیجی جس میں واضح طور پر یہ لکھا تھا کہ مسلم اسٹیٹ بنانے کا فیصلہ 1940 سے پہلے ہوچکا تھا۔ اس کے بعد ضیاالحق خاموش ہوگئے۔ میں نے لندن جا کر تو تحقیق نہیں کی لیکن میری معلومات یہی ہیں۔

سوال: پیر صاحب کیا آپ کو احساس ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں یعنی پاکستان انگریزوں نے بنایا تھا؟

جواب: دیکھو بھئی سچ سننا ہے تو وہ تو یہی ہے وگرنہ میں بھی آپ کو کوئی کہانی سنا دیتا ہوں۔

سوال: اس کا کوئی ثبوت ہے؟

جواب: دیکھو بھئی برطانوی وزیراعظم چرچل کی پنجاب کے اس وقت کے وزیراعظم سر سکندر حیات سے قاہرہ میں ملاقات ہوئی تو چرچل نے کہا کہ مسلمانوں نے سلطنت برطانیہ کے لئے جو قربانیاں دی ہیں ان کی بلڈ منی کے طور پر انہیں الگ ریاست دی جائے گی۔ میں نے یہ بات سر سکندر حیات کے بیٹے سردار شوکت حیات سے پوچھی تو انہوں نے تصدیق کی کہ چرچل نے سردار سکندر حیات سے یہ بات کی تھی۔

سوال: پیر صاحب! آپ مسلم لیگ کے صدر رہے ہیں، آپ بھی وہ بات کہہ رہے ہیں جو قوم پرست کہتے ہیں۔

جواب: دیکھو بھئی سچ سے تکلیف تو ہوتی ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ جس طرح دیگر بااثر لوگوں کو انگریز نے مسلم لیگ میں بھیجا تھا۔ علامہ اقبال بھی اسی طرح مسلم لیگ میں آئے تھے۔ آپ یہ بتائیں کہ علامہ اقبال کس کے کہنے پر قائداعظم کے پاس گئے تھے۔ دیکھو بھئی جتنے بھی بااثر لوگ تھے، وہ انگریزوں کے کہنے پر مسلم لیگ میں آئے تھے۔

سوال:تو کیا آپ دو قومی نظریے سے انکار کرتے ہیں۔

جواب: دیکھو بھئی ایک قوم ہندو تھی جو گؤ ماتا کو پوجتی تھی دوسری قوم مسلمان تھی جو گؤ ماتا کو کھاتی تھی تو دونوں قومیں تو الگ تھیں، البتہ پاکستان اسلام کے نام پر نہیں لبرل معاشرے کے قیام کے لئے بنا۔

سوال: تو کیا پاکستان بنانے میں مسلم لیگ کا کردار نہیں تھا؟

جواب: مسلم لیگ بااثر لوگوں کی جماعت تھی۔ یہ عوامی جماعت نہیں تھی کہ جس کے ووٹر ہوں، بااثر لوگوں کے ماننے والے اسے ووٹ دیتے تھے۔ مسلم لیگ اس وقت سے لے کر آج تک جماعت نہیں بن سکی، نہ یہ کبھی جماعت بن سکے گی۔ ملک میں اقتدار انگریز کے وفاداروں کے ہاتھ میں رہے، وہی پالیسی آج تک چل رہی ہے، کچھ بھی تو تبدیل نہیں ہوا”۔

اس انٹرویو کی اشاعت کے بعد جناب پیر پگاڑا پر روزنامہ نوائے وقت نے خوب لے دے کی۔ اسی دوران لاہور کے ایک اخبار نویس نے جب ان سے دریافت کیا کہ وہ اپنے اس بیان پر کیا اب بھی قائم ہیں کہ پاکستان انگریز نے بنایا تھا؟ تو پیر پگارا نے اپنے مخصوص انداز میں کہا:

’’اور کیا آپ کے باپ نے بنایا تھا؟‘‘

ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ .ﮐﺘﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ 10 ﺻﻔﺎﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺻﻔﺖ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ وه بزرگی تک پہنچ جاتا ہے۔

  1. ﮐﺘﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻗﻨﺎﻋﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺳﯽ ﭘﺮ ﻗﻨﺎﻋﺖ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ، ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻗﺎﻧﻌﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﺑﺮﯾﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .
  2. ﮐﺘﺎ ﺍﮐﺜﺮ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺻﺎﻟﺤﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .
  3. ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮐﺘﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺯﻭﺭ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻏﺎﻟﺐ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﮕﮧ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺭﺍﺿﻌﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .
  4. ﺍﺳﮑﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ﯾﮧ ﺻﺎﺩﻗﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .
  5. ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮑﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻗﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﮯ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﯿﻨﺘﺎ، ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﻣﺴﮑﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .
  6. ﺟﺐ ﻣﺎﻟﮏ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺩﻭﺭ ﺟﻮﺗﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﺩﻧﯽٰ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﻣﺘﻮﻓﻘﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .
  7. ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮑﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ، ﭘﮭﺮ ﻣﺎﻟﮏ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﭨﮑﮍﺍ ﮈﺍﻝ ﺩﮮ، ﺗﻮ ﯾﮧ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺁ ﮐﺮ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﯾﮧ ﺧﺎﺷﻌﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ ۸
  8. ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﯾﮧ ﻣﺘﻮﮐﻠﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .
  9. ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﺳﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﻣﺤﺒﯿﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .
  10. ﺟﺐ ﻣﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﯿﺮﺍﺙ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ، ﯾﮧ ﺯﺍﮨﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ .

ایک اہم سوال :اگر آپ کی پُوری زندگی پر فِلم بنائی جائے، جس میں آپ کا گُزرا ہُوا ہر لمحہ شامل ہو، تو کیا آپ لوگوں کے سامنے اپنی فیملی کے ساتھ اُس فِلم کو دیکھ سکیں گے ۔۔۔؟؟؟

اگر جواب ہاں میں ہے تو آپ بہت خُوشی نصیب ہیں، اللّٰہ کے بہت پسندیدہ ہیں اور آپ مبارکباد کے مستحق ہیں ۔

اگر جواب نفی میں ہے تو ابھی وقت ہے توبہ کر کے اس “فِلم پروڈکشن” کو بہتر بنانے پر توجہ دیں کیونکہ آپ کی زندگی بروزِ محشر سب کے سامنے پیش کی جائے گی ۔۔۔

يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَىٰ مِنكُمْ خَافِيَةٌ°
ترجمہ : “اُس دن تم سب لوگوں کے سامنے پیش کئے جاؤ گے، تمہارا کوئی بھید پوشیدہ نہ رہے گا۔”
《الحاقة: ١٨》
🔰 FARIHA KHAN🔰

یہ جــــــو زندگی کی کتاب ہے،یہ کـــــــتاب بھی کیا کتاب ہے،کہیں اک حسین سـا خواب ہے،کہیں جـــــــــان لیوا عذاب ہے..

کہیں آنسوٶں کـــی ہے داستاں،
کہیں مسکراہٹوں کــــا ہے بیاں،
کٸ چہرے اس میں چھپے ہوئے،
اک عجیب ســـــــــا یہ نقاب ہے..
کہیں کھو دیــــــــــا کہیں پا لیا،
کہیں رو لیا کہیں گـــــــــــــا لیا،
کہیں چھین لیتی ہے ہر خوشی،
کہیں مہربـــــــاں بے حساب ہے..
کہیں چھاٶں ہے کہیں دھوپ ہے،
کہیں کـــــــوئی اور ہی روپ ہے،
کہیں برکتوں کـــی ہیں بارشیں،
کہیں تـــــــشنگی بے حساب ہے..
یہ جو زندگی کــــــــی کتاب ہے،
یہ کتاب بھی کــــــــیا کتاب ہے،
کہیں اک حسین ســـا خواب ہے،
کہیں جـــــــــــان لیوا عذاب ہے…!

پچھلے کئی دنوں سے ہم سب میڈیا میں FATF نامی چیز کی بازگشت سن رہے ہیں۔ایف اے ٹی ایف ہے کیا ؟پاکستان کا اس کیا لینا دینا ہے ؟اور اس موضوع پر سیاسی جماعتوں کی آپس کی کھینچا تانی کے اسباب کیا ہیں ؟

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) عالمی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کے سد باب کا نگران عالمی ادارہ ہے جو 1989 میں قائم ہوا اور پاکستان اس کا رکن ہے۔
اس ادارے کے زمے ہے کہ وہ حکومتوں کو ایسے اقدامات اور قوانین تجویز کرے جن پر عمل پیرا ہو کر ممالک اپنے مالی معاملات میں شفافیت لا سکیں اور منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت جیسی چیزوں کا سدباب کو سکے۔
تجویز کیئے گئے اقدامات پر ہونے والے عملدرامد کی بنیاد پر ادارہ مملک کو تین کیٹیگریز میں تقسیم کرتا ہے۔
بلیک لسٹ
گرے لسٹ
وائٹ لسٹ

بلیک لسٹ ممالک پر پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں۔ بیرونی سرمایہ کاری رک جاتی ہے۔ بینک بین الاقوامی کاروبار کے حقوق سے محروم کر دئیے جاتے ہیں۔ ائیرلاینز پر پابندیاں لگ جاتی ہیں۔ مختصر یہ کہ ملک معاشی طور پر تنہائ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

گرےلسٹ میں موجود ممالک کچھ حد تک مالی معاملات چلانے کی اجازت ہوتی ہے لیکن بین القوامی ٹرازیکشنز پر کڑی نگاہ رکھی جاتی ہے۔ گرے لسٹ ممالک کو بین الاقومی کاروباری ادارے، مالیاتی ادارے اور بینکس مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں۔

وائٹ لسٹ ممالک کو ہر قسم کے کاروبار، مالی معاملات اور ٹرانزیکشنز کی آزادی ہوتی ہے اور بین القوامی طور پے ایسے ممالک کو اعتماد کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سرمایہ کار پورے اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

پاکستان کا ایف اے ٹی ایف سے تعلق کچھ ایسا رہا۔
2008 میں پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا۔
2010 میں پاکستان گرے لسٹ میں چلا گیا۔
2012 میں دوبارہ بلیک لسٹ
2014 میں پھر گرے لسٹ
2015 میں وائٹ لسٹ
اور 2018 میں مجھے کیوں نکالا کے ساتھ پاکستان کو بھی وائٹ لسٹ سے نکال کر پچھلے تین سال کی کارکردگی کی بنیاد پر دوبارہ گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا اور بلیک لسٹ کی تلوار تب سے پاکستان کے سر پر لٹک رہی ہے۔
پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنے کی کوششوں کی قیادت ہمارا ازلی دشمن بھارت کر رہا ہے۔
2018 میں نئی حکومت کے آنے کے بعد سے اب تک ایف اے ٹی ایف کی تین اجلاس ہوئے جن میں پاکستان کو گرے سے بلیک لسٹ میں ڈالنے کا معاملہ ایجینڈے پر شامل تھا لیکن بہترین سفارتی حکمت عملی اور اقدامات کے سبب پاکستان تینوں بار بلیک لسٹ میں جانے سے بچ گیا اور FATF کی طرف سے بتائے گئ اقدامات پر عملدرامد کے لیئے مزید وقت ملتا گیا۔
اب حکومت پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال کر وائٹ لسٹ میں لے جانے کی کوششوں کو انجام تک پہنچانے کے لیئے کوشاں ہے۔2018 میں FATF کے بتائے گئے 40 اقدامات میں سے
1 پر 100 فیصد عملدرامد
9 پر 70 سے 80 فیصد عملدرامد
26 پر 50 فیصد یا اس سے زائد عملدرامد
کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔
اور 4 نکات ایسے ہی جن پر بالکل بھی عملدرامد نہیں ہو سکا اور اس کے لیئے قانون سازی کی ضرورت تھی۔

اب آتے ہیں اس بات پر کہ FATF کے موضوع پر پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں آپس میں چپقلش کیوں چل رہی ہے ؟

بنیادی طور پر ان 4 نامکمل معاملات اور عمومی طور پر تمام معاملات کو ٹھیک کرنے کے لیئے قانون سازی کی ضرورت تھی۔ اور ایک اچھا تاثر دینے کے لیئے حکومت کی کوشش تھی کہ اپزیشن کے ساتھ مل کر یہ قوانین پاس کروائے جائیں۔ لہذا اپوزیشن سے بات کی گئ۔ لیکن جو جواب آگے سے ملا وہ سن کر ایک شعر یاد آ گیا۔

دل کو سکون روح کو آرام آ گیا
بندہ لا لوے چھتر تے پا لوے لمیاں

نون اور پی پی کی مشترکہ مذاکراتی ٹیم اس پاکستان کے لیئے عالمی سطح پر شرمندگی اور مالی مسائل کا باعث اس معاملے پر ووٹ دینے کے بدلے اپنی فرمائشوں کی ایک لسٹ لے کر آگئ جس کا ون پوائنٹ ایجینڈا اپنی اپنی لیڈرشپ کے خلاف کرپشن کے کیسز کا خاتمہ تھا۔ مطلب کہ ایک اور این آر او۔
ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکل کر وائٹ لسٹ میں جانے کے لیئے پیش کردہ قوانین کو ووٹ دینے کے بدلے نون اور پی پی انوکھے لاڈلوں نے کھلین کو مندرجہ زیل چاند مانگے تھے۔

1۔ نیب قوانین کا اطلاق 16 نومبر 1999 کے بعد سے ہو اس سے پہلے والے تمام کیسز ختم۔
2۔ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا اختیار نیب سے واپس لیا جائے۔
3۔ 5 سال سے پرانے کرپشن کے مقدمات کی تحقیقات نہیں ہونی چاہیئے۔
4۔ 1 ارب سے کم مالی بد عنوانی کو کرپشن کی فہرست سے نکالا جائے۔
5۔ عدالتوں سے اپیلوں کا فیصلہ آنے تک عہدوں سے نا اہل نہ کیا جائے۔
6۔ بینک نادہندگان پر نیب کا کیس بنانے کا اختیار ختم کیا جائے۔
7۔ بیرون ملک اثاثوں کو نیب کے دائرہ کار سے نکالا جائے۔
8۔ آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیق کا اختیار نیب سے واپس لیا جائے۔

مطلب کہ نیب اس کے بعد صرف بندے کی روٹیاں ہی گن سکے اور گھر سے 200 روپے کا سامان لینے کے لیئے جانے والے بندے کو 20 روپے اپنی جیب میں ڈالنے جیسے جرائم پر ہی کیس کر سکے۔

مختصر یہ کہ ایسا وقت جب ایک طرف ملکی وقار اور عزت داو پے لگی ہو اور ملک کو بلیک لسٹ میں ڈالا جانے والا ہو اور اس سے بچنے کے لیئے اقدامات کی حمایت کرنے کے وقت بھی جو سیاستدان اپنی ذاتی لوٹ مار کو بچانے کے لیئے کوشاں ہوں اور حکومت کو بلیک میل کریں تو ان کی اس ملک سے وابستگی پر سوال نہ اٹھائے جائیں تو اور کیا کہا جائے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حکومت نے گزشتہ روز قومی اسمبلی سے مطلوبہ بل اپوزیشن کے ووٹوں کے بغیر ہی پاس کروانے کے بعد آج سینیٹ سے بھی پاس کروا لیئے ہیں۔

مغربی دنیا میں سے امیریکا کی مثال لے لیجیے ۔۔۔۔ملک میں خواندگی کی شرح 99 فیصد ہے۔93 فیصد والدین مڈل سکول میں سیکس ایجوکیشن کے حق میں ہیں۔96 فیصد والدین ہائی سکول کی سطح پر سیکس ایجوکیشن چاہتے ہیں۔ملک کی 26 ریاستوں کے سکولز میں مکمل سیکس ایجوکیشن فراہم کی جاتی ہے۔


البتہ 34 ریاستوں کے بعض سکولز میں جہاں “نا مکمل” سیکس ایجوکیشن دی جاتی ہے۔
ملک میں شادی کی کوئی پابندی نہیں، رضاکارانہ جنسی فعل ہر بالغ کا قانونی حق ہے۔
ملک میں طوائفوں کی تعداد ایک سے دو ملین تک ہے
ملک کی تمام ریاستوں میں پولیس پر 100 جبکہ جیلز اور کریکشن سنٹرز پر سالانہ 80 بلین ڈالرز خرچ کیے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
اس کے باوجود ۔۔۔۔۔۔۔۔
ملک میں ہر سال اوسطاً ایک لاکھ زنا بالجبر کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔
بیورو اَو جسٹس سٹیٹسٹکس کے مطابق رپورٹ ہونے والے کیسز کی شرح کل کیسز کا 38.4 فیصد ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہر ایک ہزار میں سے محض 384 کیسز رپورٹ ہونے کے باوجود ۔۔۔۔۔۔۔
پولیس محض 57 ملزمان کو گرفتار کر پاتی ہے یعنی صرف 5.7 فیصد
ان 5.7 فیصد گرفتار ملزمان میں سے محض 11 پر تفتیش کے بعد مقدمہ چلتا ہے یعنی صرف 1.1 فیصد ملزم عدالت کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔
ان گیارہ میں سے اوسطاً 7 پر جرم ثابت ہوتا ہے اور انہیں سزا سنائی جاتی ہے یعنی 0.7 فیصد۔

اب آپ تسلی سے اپنے ملک، قانون، سماج ۔۔۔۔۔۔۔۔ جسے چاہیں گالی دے سکتے ہیں !

پس نوشت: اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ صرف سیکس ایجوکیشن، فری سیکس کے مواقع سے ریپ کم نہیں ہو گا ۔۔۔۔۔۔ تعلیم، شعور کے ساتھ ساتھ قانونی اور عدالتی اصلاحات اور سب سے بڑھ کر عبرت ناک سزا کا نٖفاذ ضروری ہے۔

Via: jean sartre

مردانگی کسی جسمانی صلاحیت کا نام نہیں ہےمردانگی ایک رویے کا نام ہےجو آپ کو مرداور عورت سے برتر ثابت کرتا ہےمردانگی یہ ہےکہ کوئی عورت آپ کی موجودگی میں خود کو غیر محفوظ نا سمجھےاور آپ کی نگاہ پڑتے ہی چادر درست کرنے پر مجبور نا ہو جائے .

مردانگی کسی جسمانی صلاحیت کا نام نہیں ہے۔۔۔ مردانگی ایک رویے کا نام ہے،،، جو آپ کو مرد،،، اور عورت سے برتر ثابت کرتا ہے۔۔۔ مردانگی یہ ہے،،، کہ کوئی عورت آپ کی موجودگی میں خود کو غیر محفوظ نا سمجھے،،، اور آپ کی نگاہ پڑتے ہی چادر درست کرنے پر مجبور نا ہو جائے۔۔۔مردانگی یہ ہے،،، کہ آپ کے جزبات پر عقل حاوی ہو۔۔۔ مردانگی یہ ہے،،، کہ آپ عورت پر ہاتھ اٹھائے بغیر یہ ثابت کریں،،، کہ آپ میں اپنی بات سمجھانے اور اس پر عمل کروانے کی صلاحیت ہے۔۔۔ہمارے معاشرے میں مردانگی یا تو ایک جنسی صلاحیت کا نام ہے،،، یا سختی اور بے حسی کا۔۔۔ہم اپنے بچوں کو بچپن سے یہ بتاتے ہیں،،، کہ مرد روتے اچھے نہیں لگتے۔۔۔ ہم ان کو یہ نہیں بتاتے کہ مرد رلاتے بھی اچھے نہیں لگتے۔۔۔ یہ کہتے آہستہ آہستہ ہم ان کی شخصیت کا حساس پہلو اپنے ہاتھوں سے مسخ کر دیتے ہیں۔۔۔ بڑے ہو کر یہی بچے عورت کے لیے تشدد کی وجہ بنتے ہیں۔۔۔اپنی زندگی میں مردانگی کی تعریف بدلیں۔۔۔ اور اپنے اندر مزکورہ بالا خصائل پیدا کریں۔۔۔ ورنہ آپ مرد کہلانے،،، اور خود کو عورت سے برتر کہلانے کے مستحق نہیں ہیں۔۔۔!!!

ہر آدمی کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب کہ وه اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہے- ایسے لمحات میں خدا سے دعا کرنا آدمی کے دل کو سکون بخشتا ہے- دعا گویا کسی آدمی کے لیے کرائسس منیجمنٹ ( crisis management) کا بہترین ذریعہ ہے-

غم کو دعا میں ڈهالنا

قرآن کی سوره یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان هوا ہے- ان کے سوتیلے بهائیوں کے غلط سلوک کی وجہ سے وه وقت آیا جب کہ حضرت یوسف کے والد حضرت یعقوب بظاہر اپنے دو عزیز بیٹوں سے محروم هو گئے- اس حادثے کے وقت حضرت یعقوب علیہ السلام کی زبان سے یہ دعائیہ کلمہ نکلا : انما اشکو بثی و حزنی الی اللہ (12:86) یعنی میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوه صرف اللہ سے کرتا هوں-

پیغمبر کی زبان سے نکلے هوئے یہ الفاظ ایک اهم حقیقت کو بتاتے ہیں- اس سے معلوم هوتا ہے کہ مومن جب کسی غم سے دوچار هوتا ہے تو وه عام انسان کی طرح آه اور فریاد میں مبتلا نہیں هوتا، بلکہ اس کا ایمانی شعور اس کے غم کو دعا میں ڈهال دیتا ہے- وه اللہ کی طرف رجوع هو کر اس سے التجا کرنے لگتا ہے کہ وه اس کے کهونے کو یافت میں بدل دے، وه اس کی محرومی کی حسن تلافی فرمائے-

کسی انسان کے ساتھ جب غم اور محرومی کا تجربہ پیش آتا ہے تو اس کے لیے ردعمل کی دو صورتیں هوتی ہیں- ایک ہے، انسانوں کی طرف دیکهنا، اور دوسرا ہے، خدا کی طرف دیکهنا- جو لوگ حادثہ کے وقت انسان کی طرف دیکهیں، وه صرف یہ کرتے ہیں کہ انسان کے خلاف فریاد و فغاں میں مبتلا هو جائیں- مگر جس شخص کا یہ حال هو کہ وه اس قسم کے تجربہ کے بعد خدا کو یاد کرنے لگے، وه چهیننے والے کے بجائے دینے والے کو اپنا مرکز توجہ بنا لے گا- اس کا ذہن مایوسی کے بجائے امید کا آشیانہ بن جائے گا-

دعا ایک طاقت ہے- نازک وقتوں میں دعا مومن کا سب سے بڑا سہارا ہے- دعا اس اعتماد کا سرچشمہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی کهونا آخری نہیں، بلکہ ہر کهونے میں از سر نو پانے کا راز چهپا هوا ہے-
ہر آدمی کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب کہ وه اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہے- ایسے لمحات میں خدا سے دعا کرنا آدمی کے دل کو سکون بخشتا ہے- دعا گویا کسی آدمی کے لیے کرائسس منیجمنٹ ( crisis management) کا بہترین ذریعہ ہے-

بُزرگوں کی نَصیحت کا مزہ اُس پھـل کی طرح ھوتا ھے جِس کا مَزَہ شروع میں کَڑوا اور بعد میں مِیٹھا ھوتا ھے ۔

مردانگی کسی جسمانی صلاحیت کا نام نہیں ہے۔۔۔ مردانگی ایک رویے کا نام ہے،،، جو آپ کو مرد،،، اور عورت سے برتر ثابت کرتا ہے۔۔۔ مردانگی یہ ہے،،، کہ کوئی عورت آپ کی موجودگی میں خود کو غیر محفوظ نا سمجھے،،، اور آپ کی نگاہ پڑتے ہی چادر درست کرنے پر مجبور نا ہو جائے۔۔۔

مردانگی یہ ہے،،، کہ آپ کے جزبات پر عقل حاوی ہو۔۔۔ مردانگی یہ ہے،،، کہ آپ عورت پر ہاتھ اٹھائے بغیر یہ ثابت کریں،،، کہ آپ میں اپنی بات سمجھانے اور اس پر عمل کروانے کی صلاحیت ہے۔۔۔

ہمارے معاشرے میں مردانگی یا تو ایک جنسی صلاحیت کا نام ہے،،، یا سختی اور بے حسی کا۔۔۔ہم اپنے بچوں کو بچپن سے یہ بتاتے ہیں،،، کہ مرد روتے اچھے نہیں لگتے۔۔۔ ہم ان کو یہ نہیں بتاتے کہ مرد رلاتے بھی اچھے نہیں لگتے۔۔۔ یہ کہتے آہستہ آہستہ ہم ان کی شخصیت کا حساس پہلو اپنے ہاتھوں سے مسخ کر دیتے ہیں۔۔۔ بڑے ہو کر یہی بچے عورت کے لیے تشدد کی وجہ بنتے ہیں۔۔۔

اپنی زندگی میں مردانگی کی تعریف بدلیں۔۔۔ اور اپنے اندر مزکورہ بالا خصائل پیدا کریں۔۔۔ ورنہ آپ مرد کہلانے،،، اور خود کو عورت سے برتر کہلانے کے مستحق نہیں ہیں۔۔۔!!!